پندرہویں مشرقی ایشیائی سمٹ کے وزرائے خارجہ اجلاس کا کوالالمپور میں انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
پندرہویں مشرقی ایشیائی سمٹ کے وزرائے خارجہ اجلاس کا کوالالمپور میں انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 12 July, 2025 سب نیوز
کوالالمپور: پندرہویں مشرقی ایشیائی سمٹ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کا انعقاد ہوا۔ ہفتہ کے روز چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔وانگ ای نے کہا کہ اِس سال مشرقی ایشیائی سمٹ کی 20ویں سالگرہ ہے، تمام فریقوں کو اِس موقع کو باہمی افہام و تفہیم، امن و استحکام کی بحالی اور ترقی و خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
چین کی جانب سے اس حوالے سے تین تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ اول، مکالمے کی بحالی۔ چین اِس سال کے سربراہی اجلاس میں 20ویں سالگرہ کے موقع پر یادگاری اعلامیہ جاری کرنے کی حمایت کرتا ہے جو اجلاس کی مستقبل کی سمت متعین کرے گا۔دوسرا، ترقی کی جانب واپسی۔ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر مشرقی ایشیائی سربراہی اجلاس ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنے اور خطے میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
تیسرا، کھلے پن کی جانب واپسی۔ ہم خطے میں سرد جنگ کی ذہنیت، گروہی تصادم کو درآمد کرنے اور کسی بھی قسم کے بند “چھوٹے حلقے” تشکیل دینے کی مخالفت کرتے ہیں۔وانگ ای نے زور دے کر کہا کہ تائیوان علاقے میں کشیدگی کی بنیادی وجہ “تائیوان کی علیحدگی” کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور بیرونی قوتوں کی سرپرستی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام ممالک واضح موقف کے ساتھ ایک چین کے اصول پر قائم رہیں گے، ہر قسم کی”تائیوان کی علیحدگی” کی مخالفت کریں گے اور چین کی وحدت کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرناؤرو کے صدر چین کےساتھ تعلقات کے حوالے سے پرامید ناؤرو کے صدر چین کےساتھ تعلقات کے حوالے سے پرامید سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات 59کھرب روپے سے تجاوز کرگئے احبابِ فکر و عمل تنظیم کی شجر کاری مہم – سرسبز پاکستان کی جانب ایک مثبت قدم چین-پاکستان زرعی تعاون دو طرفہ ترقی اور مشترکہ فوائد کو فروغ دے رہا ہے ملک بھر کی بزنس کمیونٹی اتحاد کا مظاہرہ کرے اور کسی بھی قسم کے احتجاج سے فوری طور پر گریز کیا جائے، عاطف اکرام... ملک میں چینی کی قیمت نے ڈبل سنچری مکمل کرلی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مشرقی ایشیائی سمٹ
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔