ناراض بیوی کو ساتھ لے جانے کی اجازت نہ دینے پر شوہر نے ساس، سسر، سالے اور ماموں کو قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی تحصیل پبی میں ناراض بیوی کو منانے کیلیے آنے والے ملزم کی فائرنگ سے سسر، ساس سالہ اور لڑکی کے ماموں جاں بحق ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تحصیل پبی کے علاقے ٹیٹارہ میں خواتین کے تنازع پر فائرنگ سے چار افراد جاں بحق ہوئے جن میں تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ۔جاں بحق ہونے والوں میں مشتاق خان 70 سال، زوجہ مشتاق عمر 60 سال، حیات عمر 53 سال شامل ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ اکبرپورہ کے علاقے ٹیٹاری میں ناراض بیوی کو منانے کے لیے آنے والے شوہر نے ساتھ لے جانے کی اجازت نہ دینے پر طیش میں آکر فائرنگ کردی۔
فائرنگ میں جاں بحق ہونے والوں میں ملزم داماد کا سسر، ساس، سالہ اور بیوی کا ماموں شامل ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ملزم کا کہنا تھا کہ بیوی کو اُس کے گھر والوں نے ورغلا کر اپنے پاس روک لیا ہے جبکہ وہ ساتھ جانا چاہتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیوی کو
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔