Daily Ausaf:
2026-06-03@01:00:01 GMT

انتشار ، احتجاج اور مذاکرات کامخمصہ

اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT

ملکی سیاست کی رونق مصالحے دار بیانات پر منحصر ہے۔ نون لیگ اور تحریک انصاف کے ترجمان اس فن میں طاق ہیں۔ حالیہ لفظی جنگ کا آغاز تحریک انصاف نے کیا ہے۔ اسیر بانی چیئرمین کی رہائی اصحاب انصاف کا نصب العین ہے۔ چنانچہ چند ہفتوں قبل عاشورہ محرم کے بعدانتخابی تحریک کا اعلان کیا گیا تھا۔ ایسے دعووں اور بیانات پر رد عمل دینا اصحاب نون نے خود پرفرض کر رکھا ہے۔ اس جماعتی فرض کی ادائیگی میں نون لیگی توپچیوں نے لفظی گولہ باری میں بخل نہیں کیا۔ انصافی لشکر کا جوش اگرچہ سرد ہوتا جا رہا ہے لیکن حزب اقتدار کے خلاف غم و غصہ کم نہیں ہوا۔ جوش سرد ہونے کی وجہ تحریک انصاف کی مایوس کن سیاسی کارکردگی ہے۔ صوبہ کے پی میں حکمرانی کے باوجود وزیر اعلیٰ گنڈاپورنہ تو اپنے حامیوں کو مطمئن کرسکے ہیں اور نہ ہی مخالفین کو زیر کر پائے ہیں ۔ ان کے بیانات کی گھن گرج دیکھ کر ہی سیاسی مخالفین سمجھ جاتے ہیں کہ ان پر عمل درآمد نہیں ہو پائے گا۔ بعض ذہین تجزیہ نگار یہ کلیہ دریافت کر چکے ہیں کہ گنڈا پور صاحب جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں البتہ جو کچھ جوش وجذبے سے کہتے ہیں اس پر تو وہ بالکل بھی کچھ نہیں کرتے۔ جماعت کی قیادت ایک ایسے بیرسٹر صاحب کے پاس ہے جو ماضی میں بھٹو کے جیالے ہوا کرتے تھے۔ حالیہ انصافی قیادت کو کارکنان و حامی ایسے کام چلا اضافی پہیے کی طرح سمجھتے ہیں، جسے ٹائرپنکچر ہونے کی صورت عارضی طور پر سفر جاری رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پنکچر لگتے ہی اصل ٹائر نصب کر کے اضافی پہیےکو گاڑی کی ڈگی میں رکھ دیاجاتا ہے۔ قسمت کی خرابی اور مرکزی قیادت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پارٹی کے چاروں ٹائر پنکچر ہو چکے ہیں۔
عارضی پہیے سےیہ طویل سفر بہت مشکل ہے۔ عوامی مقبولیت کے دعوئوں کے باوجود نوکیلے پتھروں والی سیاسی راہ گزر پرانصافی گاڑی ہچکولےکھارہی ہے۔کے پی میں حکمرانی کے باوجود گنڈاپور سرکار موثر احتجاجی تحریک بپا نہیں کر سکی۔ احتجاج کے نام پر تشدد، بدامنی اور زبان درازی کے غیر متاثرکن مظاہرےنے تحریک انصاف کے سیاسی موقف کو کمزور کیا ہے۔ یہ تاثر پختہ ہوتا جا رہاہےکہ سوشل میڈیا کی پیالی میں طوفان اٹھانے والی جماعت احتجاج کے میدان میں چاروں شان چت ہو جاتی ہے۔ کے پی حکومت اور خاص طور پہ وزیراعلیٰ گنڈاپور تحریک انصاف کے اندرونی حلقے یہ الزامات لگاتے رہے ہیں کہ انہیں اسیر بانی چیئرمین کی رہائی سے زیادہ صوبے کا اقتدار عزیز ہے۔ وزارت اعلیٰ کی مراعات کی کشش نے انہیں جماعت کی صراط مستقیم سے گمراہ کر دیا ہے۔ صوبائی بجٹ کی منظوری کے تماشے نےاس تاثر کو مزید تقویت بخشی ہے۔ گنڈاپور نے گرجدار دعویٰ کیا تھا کہ اسیر بانی چیئرمین کے اشارہ ابرو کے بغیر بجٹ پاس نہیں ہوگا ۔حسب معمول اس جوشیلے دعوے پر سوشل میڈیا کے اکھاڑے میں طبل جنگ بجائے گئے۔ تماشہ یہ ہوا کہ شب کی تاریکی میں صوبائی اسمبلی نے حیران کن سرعت سے بجٹ پاس کر دیا۔ ہر روز جماعت میں اختلافات سامنے آرہے ہیں ۔اس سوال کا جواب کارکنان کو نہیں مل رہا کہ آگے کیا کرنا ہے؟ اور کیسے کرنا ہے ؟
تضادات کا اندازہ رنگ برنگ اعلانات سے کیا جا سکتا ہے۔جیل میں اسیر قیادت کی جانب سے ایک پیغام یہ دیا گیا کہ عاشورہ محرم کے بعد احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ اس کے متوازی کوٹ لکھپت جیل کے اسیروں نے ایک کھلا خط بھیج دیا جس میں سیاسی مذاکرات کی اہمیت اور تلقین نمایاں ہے ۔صوبہ کے پی میں انصافی حکومت بھی انتشار کا شکار ہے۔ عوامی مسائل کے بجائے باہمی چپقلش پرتوانائیاں ضائع کی جا رہی ہیں۔ کرپشن اور بد انتظامی کے الزامات عائد کیےجا رہے ہیں۔ اندرونی انتشار اورمستقبل کی حکمت عملی کا مخمصہ تحریک انصاف کی شدید کمزوری بن کر ابھرے ہیں۔ جہاں جماعت کے حامی بانی چیئرمین کی اسیری کو نظریاتی استحکام اور جرات مندی کی علامت دے کر سراہ رہے ہیں۔ وہیں دیگرقیادت کی کوتاہ بینی اور بےعملی پر شاکی بھی ہیں ۔ایسے میں بانی چیئرمین کی ہمشیرہ نے اڈیالہ جیل کے باہر لندن میں مقیم اپنے بھتیجوں قاسم اور سلیمان کی پاکستان آمد اور احتجاجی تحریک میں شرکت کا اعلان کر کے نئی سنسنی پھیلا دی ہے۔ اس اعلان کے فوائد اورمضمرات پہ غور کئے بغیر نون لیگی اور انصافی لشکر میں لفظی گولہ باری کی جنگ چھڑ گئی ہے۔
تحریک انصاف کی بے عملی پر ن لیگ کی حکومت مسرورو شاداں ہے۔ دوسری جانب ن لیگ کے تابڑ توڑ بیانات اورحد سے زیادہ تنقید تحریک انصاف کو میڈیا میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔بانی چیئرمین کے بیٹوں کو لندن سے بلا کر پاکستان کی سیاست اور احتجاجی تماشے میں استعمال کرنے والی دوست نما دشمن پہلے سے منتشر تحریک انصاف کی ہچکولے کھاتی کشتی میں مزید سوراخ کرنا چاہتے ہیں۔ دیکھتے ہیں ماضی کی طرح احتجاج کے دعوے پیالی کا طوفان ثابت ہوتے ہیں یا تحریک انصاف کی بھنور میں گری کشتی کو ساحل پر لگاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بانی چیئرمین کی تحریک انصاف کی

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو