اسرائیلی حملے میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے زخمی ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے زخمی ہونے کا حیران کن انکشاف ہوا ہے۔
ترک خبر ایجنسی انادولو نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 17 جون کو اسرائیلی حملے کے وقت صدر سمیت اعلیٰ ایرانی قیادت ایک محفوظ مقام پر میٹنگ میں مصروف تھی۔
رپورٹس کے مطابق، اسرائیل نے اس عمارت کے داخلی و خارجی راستوں کو نشانہ بنانے کے لیے 6 میزائل فائر کیے۔ اگرچہ صدر پزشکیان کو ٹانگ پر معمولی چوٹ آئی، تاہم وہ دیگر حکام کے ہمراہ محفوظ طریقے سے نکلنے میں کامیاب رہے۔
ایرانی ایجنسی فارس نیوز کا کہنا ہے کہ اسی طرز کا حملہ حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصر اللہ پر بھی کیا گیا تھا، جس سے خدشات جنم لے رہے ہیں کہ اطلاعات اندر سے لیک ہوئی ہیں۔
اسرائیل نے 13 جون کو ایران کے جوہری اثاثوں، فوجی ہیڈکوارٹرز اور سویلین علاقوں پر حملے شروع کیے تھے۔ ان حملوں میں اب تک 606 ایرانی شہری شہید اور 5,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
جوابی کارروائی میں ایران نے 29 اسرائیلی شہریوں کو ہلاک اور 3,400 کو زخمی کیا۔ یہ کشیدگی 24 جون کو امریکی ثالثی کے بعد تھمی، لیکن صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔