خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان پہلے اپنی جماعت میں تبدیلی لے کر آئیں، ہماری حکومت گرانے کی خواہشات محض خواب ہیں، مخالفین کچھ بھی کر لیں، صوبائی حکومت ختم نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمان کو کس شرط پر بھائی سے الیکشن لڑنے کا چیلنج دیا؟

سوات سے جاری کردہ بیان میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا صوبائی حکومت کے خلاف مؤقف غیر سنجیدہ اور مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہاکہ وفاق کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف نہ مالی تعاون مل رہا ہے اور نہ ہی تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ دہشتگرد خیبرپختونخوا کے خلاف نہیں ریاست کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ ہمارے سیاسی کارکنوں کو بلاوجہ گرفتار کرکے سزائیں دی گئیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کا مسئلہ انتظامی اور سیاسی نوعیت کا ہے، اور اس کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

بیرسٹر سیف نے خبردار کیاکہ پاکستان تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے کی کوششوں کا نتیجہ صرف آئینی ترامیم کی صورت میں نکلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینا عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ میں اسٹیبلشمنٹ کا نہیں بلکہ پی ٹی آئی کا نمائندہ ہوں، اور ہر سطح پر ان نشستوں کے خلاف آواز بلند کی جائےگی۔

یہ بھی پڑھیں: فضل الرحمان کے پی میں حکومت تبدیلی کے بجائے اپنے اندر تبدیلی لے کر آئیں، علی امین گنڈاپور

مشیر اطلاعات نے سانحہ سوات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہاکہ واقعے کی رپورٹ پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بیرسٹر سیف تبدیلی کی تجویز صوبائی حکومت علی امین گنڈاپور مشیر اطلاعات مولانا فضل الرحمان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیرسٹر سیف تبدیلی کی تجویز صوبائی حکومت علی امین گنڈاپور مشیر اطلاعات مولانا فضل الرحمان وی نیوز مولانا فضل الرحمان صوبائی حکومت بیرسٹر سیف کے خلاف

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ