اقدام قتل کیس میں مدعی سے صلح کے باعث موسیٰ مانیکا کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
پاکپتن ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جولائی 2025ء ) پاکپتن میں ملازم پر فائرنگ کے نتیجے میں بننے والے اقدام قتل کیس میں مدعی سے صلح کے باعث موسیٰ مانیکا کی ضمانت منظور کرلی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ڈیوٹی جج مسعود احمد نے کیس کی سماعت کی جہاں عدالت کو آگاہ کیا گیا اقدام قتل کے اس کیس میں مدعی مقدمہ نے صلح کرلی ہے، جس کے بعد عدالت میں مدعی اور ملزم دونوں کے بیان ریکارڈ کیے گئے اور ڈیوٹی جج مسعود احمد نے خاور مانیکا اور بشریٰ بی بی کے بیٹے موسیٰ مانیکا کی ضمانت منظور کرلی، اس حوالے سے عدالت نے موسیٰ مانیکا کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔
خیال رہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر پاکتپن کے نواحی گاؤں پیر غنی کوٹھی میں موسیٰ مانیکا اپنے ملازم علی بہادر کو کام میں تاخیر کی وجہ سے فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا، فائرنگ کے بعد موسیٰ مانیکا نے ہوائی فائرنگ بھی کی اور زخمی ملازم کو اٹھانے سے بھی انکار کیا، واقعے کے بعد ڈی پی او پاکپتن جاوید اقبال چدھڑ کے نوٹس لینے کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا اور زخمی ملازم کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔(جاری ہے)
بعد ازاں پاکپتن کی تھانہ صدر پولیس نے سابقہ خاتون اوّل بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا کے بیٹے موسیٰ مانیکا کو اقدامِ قتل کے مقدمے میں عدالت میں پیش کیا، ملزم کو رات گئے علاقہ مجسٹریٹ مسعود احمد فریدی کے سامنے پیش کیا گیا جہاں پولیس کی طرف سے ملزم کوجوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھجوانے کی استدعا کی گئی، جس کے بعد تھانہ صدر پاکپتن کے علاقہ پیر غنی میں سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اور ان کے کے سابق شوہر خاور مانیکا کے بیٹے موسیٰ مانیکا کو اقدام قتل و غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمہ میں جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھجوادیا گیا، فاضل مجسٹریٹ نے ملزم کو14 روزہ ریمانڈ پر جیل بھجوایا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقدام قتل ملزم کو کے بعد
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز