یورپی یونین اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے پچاس برس
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 جولائی 2025ء) یورپی یونین اور چین دوطرفہ سفارتی تعلقات کے قیام کی 50ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ اس موقع پر یورپی کمیشن کی صدر ارزلا فان ڈیئر لائن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا جمعرات کو بیجنگ کے دورے پر پہنچے اور وہ چینی صدر شی جن پنگ، وزیر اعظم لی کیانگ اور دیگر اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
چین اور یورپی یونین ایک دوسرے کے دوسرے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، لیکن دونوں فریق دیگر مسائل کے علاوہ مارکیٹ تک رسائی، صنعتی پالیسیوں اور یوکرین میں روس کی جنگ کے حوالے سے جھگڑتے بھی رہے ہیں۔
برسلز نے جمعرات کے روز کی بات چیت کو "ہمارے تعلقات کے تمام پہلوؤں کے بارے میں تفصیلی، واضح، ٹھوس اقدامات کا ایک واضح موقع" قرار دیا ہے۔
(جاری ہے)
بیجنگ کا کہنا ہے کہ چونکہ چین اور یورپی یونین دونوں ہی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت امریکہ کی جارحانہ تجارتی حکمت عملی کا مقابلہ کر رہے ہیں، اس لیے اس ہفتے یورپی بلاک کے ساتھ تعلقات ایک "اہم موڑ" پر ہیں۔
چینی صدر کی بیجنگ میں یورپی یونین کے سربراہوں سے ملاقاتچین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چینی صدرشی جن پنگ نے یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا سے ملاقات کی۔
اس موقع پر چینی صدر نے مبینہ طور پر کہا کہ ہنگامہ خیز دنیا میں چین اور یورپی یونین کو اعتماد کو گہرا کرنا چاہیے اور اختلافات کے باوجود "مشترکہ زمین" تلاش کرنی چاہیے۔
چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) کے مطابق انہوں نے یورپی یونین کے رہنماؤں پر بھی اس بات کا زور دیا کہ وہ "درست اسٹریٹجک انتخاب" کریں۔
سی سی ٹی وی کی اطلاعات کے مطابق چینی صدر نے کہا، "بین الاقوامی صورتحال جتنی سنگین اور پیچیدہ ہے، چین اور یورپی یونین کے لیے مواصلات کو مضبوط بنانا، باہمی اعتماد میں اضافہ اور تعاون کو گہرا کرنا اتنا ہی اہم ہے۔
" تجارتی تعلقات میں توازن ضرورییوروپی کمیشن کی صدر اروزلا فان ڈیئر لائن نے بیجنگ میں گریٹ ہال آف دی پیپلز میں شی جن پنگ سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ یورپی یونین اور چین کے تعلقات ایک "اہم موڑ کے مقام" پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا، "جیسے جیسے ہمارا تعاون گہرا ہوا ہے، اسی طرح عدم توازن بھی ہوا ہے۔ ہم ایک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔
"واضح رہے کہ چین کے ساتھ یورپی یونین کا تجارتی خسارہ گزشتہ سال 306 بلین یورو کی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا۔
اس حوالے سے فان ڈیئر لائن نے کہا کہ "ہمارے دوطرفہ تعلقات کا دوبارہ توازن ضروری ہے۔۔۔ چین اور یورپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے متعلقہ خدشات کو تسلیم کریں اور حقیقی حل کے ساتھ آگے بڑھیں۔"
یورپی یونین اور چین کے تعلقات میں کشیدگییوروپی یونین اور چین کے درمیان سربراہی اجلاس سے پہلے فریقین کے تعلقات میں کافی خرابی دیکھی گئی ہے۔
دونوں فریقوں میں تجارت کے حوالے سے اہم اختلافات ہیں۔ اس میں یورپی یونین کی فرموں کے لیے چینی مارکیٹ تک غیر مساوی رسائی، نایاب معدنیات پر چین کی روک تھام نیز صنعتی پالیسیاں اور چینی کمپنیوں کے حق میں بھاری سبسڈیز جیسی شکایات شامل ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے شرکت کی دعوت مسترد کرنے کے بعد ان مذاکرات کو برسلز سے بیجنگ منتقل کر دیا گیا اور پھر دو دن پر مشتمل مذاکرات کو ایک دن کا کر دیا گیا۔
یہ سربراہی اجلاس یورپی یونین اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے، تاہم ایک ایسے وقت جب بیجنگ اور برسلز دونوں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی تناؤ سے دوچار ہیں۔ تجارتی تنازعات کی وجہ سے فریقین کے درمیان تعلقات بھی تناؤ کا شکار ہیں۔
ادارت: جاوید اختر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یورپی یونین اور چین کے چین اور یورپی یونین فان ڈیئر لائن کے درمیان چینی صدر رہے ہیں
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں