برسلز(انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری اور ماسکو کے ساتھ فوجی مشقوں میں شمولیت، نئی دہلی کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی یورپی یونین کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق 27 رکنی بلاک دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے اور دفاع جیسے شعبوں میں تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

We just adopted a new EU-India strategy.

It offers stronger cooperation on trade, technology, climate, security and defence.

But there are areas where we disagree. Ultimately our partnership is about defending the rules-based international order.

My press remarks ↓ pic.twitter.com/sJT1iAFdt3

— Kaja Kallas (@kajakallas) September 17, 2025


یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس نے ایک نئی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے کہا کہ بالآخر ہماری شراکت داری صرف تجارت کے بارے میں نہیں بلکہ قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کے دفاع کے بارے میں بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی مشقوں میں حصہ لینا، تیل کی خریداری، یہ سب ہمارے تعاون کو گہرا کرنے میں رکاوٹیں ہیں، لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ یورپی یونین کو یہ توقع نہیں ہے کہ بھارت، روس سے مکمل طور پر الگ ہو جائے گا اور دونوں فریق اپنے مسائل پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

ایران اور ماسکو کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ، بھارت نے اس ماہ روس کی مشترکہ فوجی مشقوں ’زاپاد‘ (مغرب) میں شرکت کی، جن کا کچھ حصہ نیٹو کی سرحدوں کے قریب ہوا۔

بھارت، روسی تیل کا بڑا خریدار بن گیا ہے جس سے اس نے اربوں ڈالر بچائے اور ماسکو کو ایک اہم برآمدی منڈی فراہم کی، کیونکہ یوکرین جنگ کے بعد یورپ کے روایتی خریداروں نے روس سے خریداری بند کر دی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے ہفتے یورپی یونین پر زور دیا تھا کہ وہ بھارت اور چین پر بھاری محصولات عائد کرے تاکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

لیکن یورپی یونین کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک برسلز نئی دہلی کے ساتھ تجارتی معاہدے کے پیچھے ہے، یہ امکان کم ہے، اگرچہ یورپی یونین بھارت میں روسی اداروں کے خلاف اقدامات کر سکتی ہے جیسا اس سے قبل ماسکو پر عائد پابندیوں کے پیکج میں کیا گیا ہے۔

روس پر مؤقف میں ہم آہنگی کی کمی کے باوجود، یورپی یونین اور بھارت بھی 2025 کے آخر تک آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت مکمل کرنے کے خواہاں ہیں، ایسے وقت میں جب نئی دہلی کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔

امریکا-بھارت تعلقات اس وقت سے کشیدہ ہیں، جب ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھارتی برآمدات پر محصولات 50 فیصد تک بڑھا دیے تھے، جس کے باوجود بھارت نے روسی تیل کی خریداری جاری رکھی۔

کاجا کلاس کے ساتھ برسلز میں سیفکووچ نے کہا کہ یورپی یونین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور دونوں معاشی طاقتوں کے درمیان تجارت گزشتہ دہائی میں 90 فیصد بڑھ چکی ہے۔

بھارت اور یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیدار امید کرتے ہیں کہ اگلے سال کے اوائل میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہو گا۔

پیوٹن اور مودی کی دوستی
اسی دوران، بدھ کو پیوٹن اور مودی نے اپنی دوستی اور گرمجوش تعلقات کو سراہا اور ایک فون کال کی، حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات پر دباؤ موجود ہے۔

روسی اور بھارتی رہنماؤں نے فون پر بات چیت کی، اس سے ایک روز قبل مودی نے یوکرین تنازع اور محصولات پر ٹرمپ سے بھی بات کی تھی۔

روسی صدر نے فون کال کے بعد ایک سرکاری اجلاس میں کہا کہ بھارت اور روس کے تعلقات انتہائی پُراعتماد اور دوستانہ رہے ہیں۔

نریندر مودی نے ’ایکس‘ پر کہا کہ وہ اپنی خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں، اور بھارت یوکرین تنازع کے پرامن حل کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

ٹرمپ اور یوکرین کوشش کر رہے ہیں کہ روس کے اہم توانائی کے ذرائع آمدنی کو ختم کیا جائے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ماسکو کی فوج کو فنڈز فراہم کرتے ہیں اور اسے اپنے حملے جاری رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔

Post Views: 3

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: یورپی یونین کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر

لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3  سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘

ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔

حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔

شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔

واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش پانی زیر آب لاہور

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت