کراچی: سفاک شوہر نے بیوی کا گلہ کاٹ کر قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
اورنگی ٹاؤن فرنٹیئرکالونی میں شوہرنے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیزدھارآلہ کی مدد سےگردن پروارکرکے بیوی کوقتل کردیا اورموقع پرسے فرارہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق جمعرات کی صبح پیرآباد تھانے کے علاقے اورنگی ٹاؤن فرنٹیئر کالونی صبحان مسجد سیڑھی بابا مزار کے قریب گھر سے خاتون کی تشدد زدہ اور گلا کٹی لاش ملی ہے۔
لاش ملنے کی اطلاع پر پولیس موقع پرپہنچ گئی اور پولیس نے خاتون کی لاش کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا۔
خاتون کی شناخت ملکیات بی بی زوجہ شعیب کے نام سے کی گئی مقتولہ 7 بچوں کی ماں تھی۔
ایس ایچ او پیرآباد انیس الرحمان نے بتایا کہ مقتولہ خاتون کوسوتے ہوئے اس کے شوہرشعیب نے پہلے سرپر پتھرمارا اور پھر تیز دھار آلہ کی مدد سے گردن پر وار کرکے قتل کردیا۔
بیوی کو قتل کرنے کے بعد ملزم شعیب موقع پرسے فرارہونے میں کامیاب ہوگیا۔
انھوں نے بتایا کہ ملزم شوہر فروٹ کا ٹھیلا لگاتا ہے ابتدائی تفتیش کے دوران خاتون کے قتل کی وجہ غربت کے باعث گھریلو جگھڑے معلوم ہوتے ہیں۔
انھوں نے بتایاکہ پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے اور مفرر شوہر کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔