سیریز کا آخری ٹی20؛ بنگلا دیش کے خلاف پاکستان کی بیٹنگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
سیریز کے آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں بنگلا دیش کے خلاف پاکستان کی بیٹنگ جاری ہے، میزبان ٹیم نے ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ کیا۔
ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست کے بعد وائٹ واش سے بچنے کے لیے پاکستان نے پلیئنگ الیون میں صاحبزادہ فرحان اور حسین طلعت کو شامل کیا ہے۔
اوپنر فخر زمان اور آل راؤنڈر خوشدل شاہ کو ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ فخر زمان نے پہلے میچ میں 44 رنز کی اننگز کھیلی تھی جبکہ دوسرے میچ میں 8 رنز پر پویلین لوٹ گئے تھے۔
پاکستان کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں 7 وکٹوں اور دوسرے میچ میں 8 رنز سے شکست ہوئی تھی۔ بنگلا دیش نے پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتی ہے۔
قومی ٹیم اگر تیسرا میچ بھی ہار جاتی ہے تو بنگلا دیش پہلی بار وائٹ واش کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش ٹی ٹوئنٹی میچ میں
پڑھیں:
مفرور یوٹیوبرز عادل راجہ اور شاہد قاضی کا پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب
پاکستان سے مفرور عادل راجہ اور شاہد قاضی کی ایک پوڈکاسٹ میں سامنے آنے والے خود ساختہ اور من گھڑت الزامات کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا اور مبینہ طور پر دشمن کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان دعوؤں کے مطابق یہ بیانیے حقائق کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد ریاستی اداروں اور ملکی سلامتی کے نظام کو متنازع بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یوٹیوبر عادل راجا کا گھناؤنا چہرہ پھر بے نقاب، اسرائیلی اخبار کو پاکستان مخالف انٹرویو دے ڈالا
عادل راجہ کے حوالے سے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ انہیں بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کیس میں برطانوی عدالت کی جانب سے سرعام جھوٹ بولنے اور بہتان تراشی پر سخت فیصلے کا سامنا کرنا پڑا۔ دعوے کے مطابق عدالت نے انہیں جھوٹا قرار دیتے ہوئے معافی نامہ اور اقرار نامہ اپنی تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد ان کی ساکھ شدید متاثر ہوئی۔ اسی تناظر میں ان کی حالیہ گفتگو کو بھی ناقابلِ اعتبار قرار دیا جا رہا ہے۔
مؤقف میں مزید کہا گیا ہے کہ فوج کے سیاسی کردار اور کرپشن سے متعلق بیانیے زمینی حقائق کے برعکس ہیں، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے مسلسل کردار ادا کر رہی ہیں۔ دعوے کے مطابق اداروں پر سیاسی ناکامیوں کا الزام لگانا اور بیرونی ایجنڈے کے تحت بیانیہ تشکیل دینا قابلِ مذمت عمل ہے، جبکہ فوج میں احتسابی نظام کے تحت اندرونی معاملات پر کارروائی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے پیش کیے جانے والے دعووں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں چمن کو کینٹونمنٹ بنانے اور اسمگلنگ سے متعلق الزامات کو من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔ مؤقف کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں سے اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خاتمے میں مدد ملی ہے، اور ایسے بیانیے دراصل ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔
منشیات کے کاروبار اور مبینہ پشت پناہی سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ناسور کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ہیں اور ریاستی وسائل ملک کے دفاع اور انسداد جرائم کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
چین اور پاکستان کے اقتصادی تعلقات اور سی پیک منصوبے پر تنقید کو بھی ایک منظم پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے۔ مؤقف کے مطابق سی پیک ایک اہم ترقیاتی منصوبہ ہے جس سے لاکھوں افراد کے روزگار اور ملکی معیشت کا براہِ راست تعلق ہے، جبکہ اس کے خلاف بیانیے بیرونی دباؤ اور مفادات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:یوٹیوبر عادل راجہ کی مشکلات کم نہ ہوئیں، لندن ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد
آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے حساس اداروں کے درمیان اختلافات سے متعلق دعووں کو بھی سختی سے مسترد کیا گیا ہے اور اسے ذہنی اختراع قرار دیا گیا ہے، جبکہ مؤقف میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارے ملک دشمن عناصر کے خلاف متحد ہو کر کام کر رہے ہیں۔
آخر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ اپنانے والے عناصر بیرون ملک بیٹھ کر بے بنیاد الزامات پھیلا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی عوام اور ادارے متحد ہو کر ہر قسم کی سازش کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان مخالف شاہد قاضی عادل راجہ