خیبر پختونخوا سے نو منتخب 8 اراکین نے سینیٹ رکنیت کا حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
چیئرمین سینیٹ کی زیرصدارت سینیٹ کے اجلاس میں آج 8 نومنتخب اراکین نے رکنیت کا حلف اٹھایا، مراد سعید، اعظم سواتی اور روبینہ ناز نے اب تک حلف نہیں اٹھایا۔ چیئرمین سینیٹ اور حکومتی و اپوزیشن ارکان کی جانب سے نومنتخب ارکان کو مبارکباد پیش کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا سے نو منتخب 8 اراکین نے سینیٹ رکنیت کا حلف اٹھا لیا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود، روبینہ خالد، نیاز احمد، فیصل جاوید، نورالحق قادری، مرزا محمد آفریدی، دلاور خان اور عطا اللہ درویش نے سینیٹ رکنیت کا حلف اٹھا لیا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اراکین سے حلف لیا اور کہا کہ نومنتخب سینیٹرز طلحہ محمود، روبینہ خالد، نیاز احمد، فیصل جاوید، نورالحق قادری، مرزا محمد آفریدی، دلاور خان اور عطا اللہ درویش کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ نومنتخب ارکان طلحہ محمود، روبینہ خالد، نیاز احمد، فیصل جاوید، نورالحق قادری اور مرزا محمد آفریدی کو حکومتی و اپوزیشن ارکان کی جانب سے بھی مبارکباد پیش کی گئی۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا سے نومنتخب 11 سینیٹرز میں آزاد رکن مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا آفریدی، نورالحق قادری شامل ہیں، مسلم لیگ نون کے نیاز احمد، جے یو آئی کے عطا الحق اور پیپلز پارٹی کے طلحہ محمود شامل ہیں۔ خواتین کی نشست پر آزاد رکن روبینہ ناز اور پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد جبکہ ٹیکنوکریٹ نشست پر آزاد رکن اعظم سواتی اور جے یو آئی کے دلاور خان سینیٹرز منتخب ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ نون کی جانب سے پنجاب سے حافظ عبدالکریم کامیاب ہوئے ہیں، یہ نشست ساجد میر کے انتقال پر خالی ہوئی تھی۔ سینیٹ میں آج 8 نومنتخب اراکین نے رکنیت کا حلف اٹھایا، مراد سعید، اعظم سواتی اور روبینہ ناز نے اب تک حلف نہیں اٹھایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ نورالحق قادری رکنیت کا حلف روبینہ خالد فیصل جاوید اراکین نے نیاز احمد
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔