انگلش بلے باز جو روٹ، سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑنے کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
انگلینڈ کے سابق ٹیسٹ کپتان جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ دوسرے سب سے زیادہ رنز (13409) بنانے والے بلے باز بن گئے۔
جو روٹ نے یہ کارنامہ مانچیسٹر میں بھارت کے خلاف جاری سیریز کے چوتھے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انجام دیا۔
کھیل کے تیسرے روز جو روٹ نے 11 رنز سے اننگز کا آغاز کیا اور 30 کے انفرادی اسکور پر بھارت کے راہول ڈراوڈ کو پیچھے چھوڑا۔ اگلی ہی گینڈ پر کوور پر سنگل لے کر وہ جنوبی افریقا کے آل راؤنڈر جیک کیلس سے آگے نکل گئے۔
بعد ازاں 120 رنز پر انہوں نے سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ کو تیسرے نمبر پر دھکیل کر دوسرا نمبر حاصل کر لیا۔ جس وقت انہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا اس وقت رکی پونٹنگ کمنٹری بکس میں موجود تھے اور انہوں نے آن ایئر جو روٹ کو مبارکباد دی۔
انگلینڈ کے مڈل آرڈر بلے باز کو بھارت کے لیجنڈ بلے باز سچن ٹنڈولکر کو پیچھے چھوڑنے کے لیے 2512 رنز درکار ہیں۔
چوتھے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں جو روٹ نے 150 رنز بنا کر واشنگٹن سندر کی گیند پر اسٹمپ ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔