قافلے کو روکا گیا تو جگہ جگہ دھرنے ہونگے،حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آجائے، امیر جماعت اسلامی کا انتباہ
تحفظ کی بات کرنے نکلے ہیں،جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کا مطلب دہشت گردوں ، قوم پرستوں کو طاقت دینا ہے

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے جگہ جگہ‘‘حق دو بلوچستان کو‘‘لانگ مارچ کے شرکاء کو روکنے کیلئے ٹینکرز کھڑے کرکے رکاوٹیں ڈالنے اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ سے حالات خراب کرنے کی کوشش کی مگر کارکنوں نے پر امن رہتے ہوئے حکومتی رکاوٹوں کو ہٹایا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ملک میں آئینی اور جمہوری حکومت ہوتی توسیاسی کارکنوں کا جگہ جگہ استقبال کرتی۔ہم لانگ مارچ کے شرکاء کی سیاسی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔جماعت اسلامی کے کارکنوں نے کبھی قانون کو ہاتھ لیا ہے نہ توڑ پھوڑ کی ہے۔حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آجائے اور لوگوں کو اپنا آئینی حق استعمال کرنے دے۔جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کا مطلب دہشت گردوں اور قوم پرستوں کو طاقت فراہم کرنا ہے۔ہمارا حکومت سے رابطہ ہے،حکومت کی قائم کردہ کمیٹی جماعت اسلامی کی لیاقت بلوچ اور امیر العظیم پر مشتمل کمیٹی سے رابطے میں ہیں۔حکومت ایک طرف ہم سے رابطے کررہی ہے اور دوسری طرف لانگ مارچ کا راستہ بھی روکا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حق دو بلوچستان کو لا نگ مارچ کے شرکاء سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لانگ مارچ کے شرکاء جنہیں دھرنے دینے پر مجبور کیا جارہا ہے وہ بلوچستان کی عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔جماعت اسلامی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی ہے۔ حکومت،انتظامیہ اور ذمہ دار اداروں کو عوام کی بات سننا گوارہ نہیں تو انہیں حکمرانی کا بھی حق نہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام حکومت تک اپنے مطالبات پہنچانے اور اپنے مسائل کے حل کیلئے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے اسلام آباد جارہے ہیں۔حکو مت کا فرض تھا کہ وہ مارچ کے شرکاء کو سہولتیں فراہم کرتی مگر حکمران عوام سے بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت اور اداروں کی نا اہلی ہے کہ عوام کو سڑکوں پر آنا پڑتا ہے،یہ نا اہلی عوام پر نہ ڈالی جائے۔لانگ مارچ کے شرکاء صوبے کے تمام قبیلوں برادریوں اور قومیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کرنے نکلے ہیں۔حکمرانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر انہوں نے جمہوری قوتوں اور آئین پاکستان پر یقین رکھنے والوں کا راستہ روکیں گے تو اس سے قوم پرست غیر جمہوری قوتوں اور دہشت گردوں کو اپنا راستہ بنانے کا موقع ملے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: لانگ مارچ کے شرکاء جمہوری قوتوں جماعت اسلامی کا راستہ انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان