ایئرعربیہ نے پاکستان کے 2 بڑے شہروں کیلئے اپنی پروازیں بڑھادیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
ابوظہبی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 جولائی 2025ء ) ایئر عربیہ ابوظہبی نے دو بڑے شہروں کے لیے مزید پروازوں کے ساتھ پاکستان میں اپنے فلائٹ آپریشن میں اضافہ کردیا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق ایئرعربیہ ابوظہبی نے دو اہم شہروں فیصل آباد اور ملتان میں پروازوں کی تعدد میں اضافے کے ساتھ پاکستان میں اپنے آپریشنز کو بڑھایا دیا ہے، یہ اضافہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان فضائی رابطے کو مزید مضبوط کرتا ہے، جس سے ایئرلائن کے اپنے بڑھتے ہوئے کسٹمر بیس کو سستی، قابل بھروسہ اور آسان سفری آپشنز فراہم کرنے کے عزم کو تقویت ملتی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ایئرعربیہ کے فلائٹ اپریشن میں توسیع کے نتیجے میں ملتان کے لیے پروازیں ہفتے میں 2 سے بڑھ کر اب 5 ہو چکی ہیں اور ستمبر سے روزانہ فلائٹس چلیں گی، دریں اثناء فیصل آباد کے لیے خدمات 2 سے 4 کردی گئی ہیں جو اب ہفتہ وار پروازوں سے دگنی ہو گئی ہیں، جس سے مسافروں کو زیادہ سہولت اور زیادہ لچکدار سفری اختیارات مل رہے ہیں۔(جاری ہے)
ائیر عریبیہ کے گروپ چیف ایگزیکٹیو آفیسر عادل العلی نے کہا کہ "پاکستان ایئرعربیہ ابوظہبی کے لیے ایک کلیدی ترقی کی مارکیٹ بنا ہوا ہے، ملتان اور فیصل آباد کے لیے پروازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان سستی اور قابل بھروسہ ہوائی سفر کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ہمارے عزم کی عکاسی کرتی ہے، اس سے ہمارے صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور بہتر کنیکٹیوٹی فراہم ہوتی ہے"۔
فریکوئنسی میں اضافے کے علاوہ ایئر عربیہ ابوظہبی نے حال ہی میں سیالکوٹ کے لیے ایک نیا براہ راست روٹ بھی شروع کیا ہے، جس سے کمپنی نے پاکستان بھر میں اپنے آپریشنز کو مزید پھیلایا اور دونوں ممالک کے درمیان سستی ہوائی سفر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا، اپنی وسیع تر ترقی کی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر ایئرعربیہ ابوظہبی سال کے اختتام سے قبل اپنے بیڑے میں مزید دو طیارے شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے ایئرلائن کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور نئے روٹس کے آغاز میں معاونت ملے گی کیونکہ کلیدی ممالک میں نیٹ ورک کو بڑھایا جا رہا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔