وہائٹ ہاؤس بھی اقربا پروری سے بالا نہیں !
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
جنوب مشرقی ایشیا ، جس میں پاکستان و بھارت نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، میں مقتدر افراد اگر اپنے خاندان کے کسی اہل فرد کو بھی اگر کوئی سرکاری عہدہ تفویض کر دیتے ہیں تو وزیر اعظم یا صدر کے خلاف طوفان کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ صدارت یا وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر براجمان خاتون یا مرد پر اقربا پروری یا خویش نوازی (Nepotism) کے الزامات دھر دیے جاتے ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم ، اندرا گاندھی، نے اپنے دَورِ اقتدار میں اپنے دونوں صاحبزادگان کو خوب نوازا۔ جنرل صدر ایوب خان پر بھی دورانِ صدارت اقربا پروری کے کئی الزامات لگے۔ انھوں نے اپنے بیٹے ، گوہر ایوب ، کو فوج سے نکلوا کر سیاست میں بھی داخل کیا اور بزنس ٹائیکون بھی بنادیا ۔ زیڈ اے بھٹو پر بھی ایسا الزام عائد کیا جاتا ہے جب انھوں نے اپنی صاحبزادی، محترمہ بے نظیر بھٹو، کو سیاست کی دُنیا سے روشناس کروایا اور اپنا جانشین بھی ڈیکلیئر کیا۔
نواز شریف پر بھی ایسی ہی ’’تہمت‘‘ لگی ہے کہ انھوں نے اپنی صاحبزادی، محترمہ مریم نواز شریف، کو اپنا جانشین بھی ڈیکلیئر کیا اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ بھی بنا دیا۔ شہباز شریف نے اپنے بڑے صاحبزادے ، حمزہ شہباز، کو ایک سے زیادہ بار رکن قومی اسمبلی منتخب کروایا اور ایک بار وزیر اعلیٰ پنجاب بھی۔اِس ضمن میں اور بھی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔
مگر کہا جاتا ہے کہ مغربی ممالک میں حکمران طبقہ اقربا نوازی سے گریز پا رہتا ہے ۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ شاید پہلے امریکی صدر ہیں جو اپنے دَورِ اقتدار میں اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو کھل کر نوازنے پر عمل کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے پہلے دَورِ صدارت کے دوران اپنے داماد جیرڈ کشنر ( ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا کا شوہر) کو کئی اختیارات سونپ رکھے تھے ۔
وہ ٹرمپ کے سینئر مشیر بھی تھے ۔ انھی کی زیر نگرانی مشرقِ وسطیٰ میں ’’ابراہام اکارڈ‘‘ معرضِ عمل میں آیا ۔ اِس معاہدے کے تحت کئی عرب ممالک نے صہیونی اسرائیل کو تسلیم کیا تھا ۔ اپنے صدر سسر کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہُوئے جیرڈ کشنر نے کئی عرب ممالک کے انتہائی دولتمند افراد کے ساتھ مل کر اپنے نجی کاروبار کو مزید وسعت اور طاقت بخشی ۔
یاد رہے کہ جیرڈ کشنر امریکا کا ممتاز یہودی دولتمند شخص ہے ۔ پراپرٹی ڈیلنگ اُس کا اصل کاروبار ہے۔رئیل اسٹیٹ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی کاروبار ہے۔ اِس بار مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صاحبزادی ، ایوانکا ٹرمپ اور اس کے شوہر جیرڈ کشنر ، کو سرکار دربار میں دخیل ہونے کی اجازت نہیں دی ۔ ایک خاص اسٹرٹیجی کے تحت ، مبینہ طور پر ، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے داماد سے کہا ہے کہ وہ صرف عربوں کے ساتھ مل کر بدستور اربوں ڈالر کا کاروبار کرتا رہے ۔
اِس بار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صاحبزادی ، ایوانکا ٹرمپ، کے سسر ( چارلس کشنر ) کو فرانس میں امریکی سفیر متعین کیا ہے ۔سفیر متعین کرنے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے چارلس کشنر کی تعریفیں کرتے ہُوئے کہا: ’’ وہ ممتاز امریکی بزنس مَین ہے ۔ ڈیل کرنا جانتا ہے۔ فرانس میں ہمارے ملک کے بہترین مفادات کا تحفظ بخوبی کر سکے گا۔‘‘ پچھلی بار چارلس کشنر بدعنوانی کے ایک کیس میں پکڑا گیا تھااور سزا میں جیل بھی بھیج دیا گیا تھا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مگر اپنے پہلے دَورِ صدارت کے آخری ایام میں، خصوصی صدارتی اختیارات کے تحت، اس کی سزا معاف کر دی تھی ۔اِس بار چارلس کشنر کو واشنگٹن سے دُور بھیج دیا گیا ہے تاکہ وہ امریکی دارالحکومت میں رہ کر صدارتی معاملات میں زیادہ منہ ماری نہ کر سکے ۔
نومنتخب امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کی بیٹی، ایوانکا ٹرمپ، نے بھی وائٹ ہاؤس میں ایک مرتبہ پھر اپنے والد کی انٹری کے بعد کے اپنی خاص مصروفیات بتائی ہیں۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ایوانکا ٹرمپ نے سینئر مشیر کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔ پہلے دَور میں ایوانکا ٹرمپ اور اُن کے یہودی نژاد شوہر، جیرڈ کشنر، ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ترین اور معتمد ترین ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے ۔
سرکار دربار میں ایوانکا ٹرمپ کی بہت چلتی تھی ۔ ہر کوئی اعلیٰ امریکی عہدیدار اِس حقیقت سے آگاہ تھا ۔ اُس نے ایک شہزادی کا درجہ حاصل کررکھا تھا۔ اِس بار مگر حالات مختلف ہیں۔ ٹرمپ کے دوسرے دَورِ صدارت میں، شکائتوں اور اعتراضات سے بچنے کے لیے، ایوانکا ٹرمپ کو اُن کے والد نے ایک فاصلے پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ؛ چنانچہ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کی لاڈلی صاحبزادی ، ایوانکا ٹرمپ، کی جانب سے دو بیانات سامنے آ ئے ہیں ۔
نئے حالات کے تیور دیکھ کر پہلے بیان میں ایوانکا نے کہا: ’’ مَیں اِس بار کوشش کررہی ہوں کہ وہائٹ ہاؤس کے بجائے اپنے تینوں بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت کروں۔ انھیں میری بے حد ضرورت ہے ۔‘‘ دوسرے بیان میں مبینہ طور پر ایوانکا نے کہا:’’ مَیں پہلے کی طرح ایک مرتبہ پھر اپنے والد کا بھرپور سیاسی ساتھ نبھانے کے لیے تیار ہُوں۔ امریکی صدارت دنیا کی تنہا ترین پوزیشن ہے جہاں آپ روزانہ کی بنیاد پر اہم فیصلے کرتے ہیں۔ میری کوشش ہوگی کہ میں صرف ایک بیٹی کی حیثیت سے اپنے والد کے لیے وائٹ ہاؤس میں موجود رہوں، اُن کا دھیان بٹا سکوں، اُن کے ساتھ کوئی فلم یا اسپورٹس میچ دیکھوں۔ میرے والد اور ہم پُرجوش ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اِس ملک میں ایک عمومی جوش و خروش ہے۔ یہ 4 سال بہت اچھے ہوں گے‘‘۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دَورِ صدارت میں ایوانکا ٹرمپ کی جگہ ٹرمپ کی42سالہ بہو ، لارا ٹرمپ، نے لے لی ہے۔ لارا ٹرمپ نَو منتخب امریکی صدر کے بڑے صاحبزادے ، ایرک ٹرمپ، کی اہلیہ ہیں۔ وہ سیاستدان بھی ہیں ، امریکا ٹی وی اسٹار بھی اور ری پبلکن نیشنل کمیٹی کی سابق سینئر عہدیدار بھی ۔ ایک عرصہ تک امریکی ٹی وی ’’ فاکس نیوز‘‘ کی اینکر پرسن رہی ہیں۔
نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ امریکی صدارتی انتخابات کے دوران لارا ٹرمپ نے اپنے سسر ، ڈونلڈ ٹرمپ، کی ہر انتخابی معاملے میں بے حد معاونت کی تھی ۔ لارا چونکہ خود ٹی وی میزبان رہ چکی ہیں، اس لیے انھوں نے امریکی نجی ٹی ویوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کو زیادہ سے زیادہ حصہ دینے کی کامیاب کوششیں کیں۔اب ٹرمپ اپنی اِس بہو کو امریکی سینیٹر بنوا کر کوئی اہم عہدہ دینے کے خواہاں ہیں ۔ لارا ٹرمپ اپنے سسر صدر کی زبردست حامی اور موید ہیں ۔ انھوں نے گزشتہ روز امریکی اخبار ( نیویارک پوسٹ) کو انٹرویو دیتے ہُوئے کہا تھا: ’’میرے سسر صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی خواتین کے محبوب ترین صدر ہیں۔‘‘
کئی امریکی لارا ٹرمپ کے اِس بیان پر طنزیہ طور پر ہنسے بھی ہیں ، یہ کہہ کر کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی خواتین کے محبوب صدر نہیں بلکہ واقعی معنوں میں یہ ٹرمپ صاحب کئی امریکی خواتین کا ’’شکار‘‘ بھی کر چکے ہیں۔ ایک خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے کی پاداش میں ٹرمپ کو نیویارک کی عدالت سے سزا بھی دی جا چکی ہے ۔ جج صاحب نے مگر یہ خصوصی رعائت دے دی کہ نَو منتخب امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کو جیل نہیں بھیجا۔ یہ مگر امریکی تاریخی میں پہلی بار ہُوا ہے کہ کوئی ایسا صدر بھی امریکی صدارت کے تخت پر بیٹھا ہے جو بدکاری کے الزام میں سزا یافتہ ہے ۔ epstien Filesاسکینڈل بھی انکشاف کررہا ہے کہ ٹرمپ صاحب کا دامن اخلاقی اعتبار سے خاصا داغدار ہے۔ ٹرمپ اور اُن کے حامیوں کو مگراِس کی کوئی خاص پروا نہیں ہے ۔ اور نہ ہی ٹرمپ کے قریبی رشتہ داروں کو ۔ یہ راز بھی مگر عیاں ہو چکا ہے کہ ایوانکا ٹرمپ اور لارا ٹرمپ کے درمیان رقابت اور حسد اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے ۔ ٹرمپ کی ایک31سالہ بیٹی (ٹفی ٹرمپ، ٹرمپ کی درمیانی بیوی، مارلامیپل ٹرمپ، کے بطن سے) سیاست و اقتدار سے بالکل الگ تھلگ ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ کے بڑے بیٹے (41سالہ کاروباری ایرک ٹرمپ جو ٹرمپ کی پہلی بیوی، ایوانا ٹرمپ، سے ہیں) اور چھوٹے صاحبزادے ( اٹھارہ سالہ بیرن ٹرمپ، جو78سالہ ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ 54سالہ جوان بیوی ، میلانیا ٹرمپ،سے ہیں) کے درمیان بھی کشمکش شروع ہو چکی ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دَورِ صدارت میں واشنگٹن ٹرمپ کے قریبی رشتہ داروں کے کارن محلاتی سازشوں کی آماجگاہ بننے جارہا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں ایوانکا ٹرمپ نے اپنی صاحبزادی ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے چارلس کشنر امریکی صدر لارا ٹرمپ انھوں نے ٹرمپ اور نے اپنے ٹرمپ کی کے ساتھ پہلے د اپنے د
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ