مبادلہ انوسٹمنٹ کمپنی ،اسرائیلی کمپنی تامار گیس فیلڈ میں22 فیصد کی حصہ دار ، پاک عرب ریفائنری میں40 فیصد کی شراکت دار ی ، ابو ظہبی پورٹس گروپ اسرائیلی کا شراکت دارکے پی ٹی سے بھی معاہدہ

ڈی پی ورلڈ کا اسرائیل کمپنی ڈوور ٹاور گروپ سے معاہدہ، قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل سمیت دیگر شعبہ جات میں فعال ،اسرائیل میں شراکت دار یواے ای کی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار

رپورٹ / منور علی پیرزادہ

پاکستان میں ابراہیمی معاہدے کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے،متحدہ عرب امارات کی اسرائیلی شراکت دار کمپنیوں کا پاکستانی معیشت پر برسوں سے غلبہ ہے مگر اب مزید نئے شعبوں کو اپنی گرفت میں لینے کے لیے مختلف کمپنیاں سرگرم عمل ہیں۔13 اگست 2020 ء کوامریکی سربراہی میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ابراہیمی معاہدہ طے پایا ،2021 ء سے متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں نے اسرائیلی معیشت میں باقاعدہ شراکت داری کا سلسلہ شروع کیا ، ستمبر 2021ء سے ’’یواے ای‘‘ کی مبادلہ انوسٹمنٹ کمپنی ، اسرائیلی تامار گیس فیلڈ میں22 فیصد حصص کی شراکت دار ہے ، اس کے علاوہ 100 ملین کاروباری سرمایہ کاری فنڈ میں سرمایہ لگایا گیا ، جیسے مینگرووکیپٹل پارٹنر ،جو ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، یہی مبادلہ کمپنی پاکستان میں برسوں سے پاک عرب ریفائنری کمپنی میں 40 فیصد کی حصہ دار ہے ، آئل اینڈ گیس، توانائی ودیگر شعبوں میں مزید توسیعی منصوبے موجود ہیں، اس حوالے سے حکومت پاکستان کے ساتھ مزید معاہدے زیر غور ہیں جبکہ سرمایہ کاری کا حجم 800 ملین ڈالر ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کی ایک اور کمپنی ڈی پی ورلڈ نے16 ستمبر 2020 ء کو اسرائیل کمپنی ڈوور ٹاور گروپ سے معاہدہ کیا ہے،جس کی سرمایہ کاری 600 ملین ڈالرتک پہنچ سکتی ہے جبکہ ڈی پی ورلڈ 1997 سے قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل سمیت دیگر شعبہ جات میں فعال ہے ، اس کے علاوہ ڈی پی ورلڈ این ایل سی کے ساتھ 40 فیصد کی حصہ دار بھی ہے ۔ اسی طرح ابو ظہبی پورٹس گروپ نے انڈسٹریل ٹریڈ انوسمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن کے فروغ کے لیے اسرائیل سے تجارتی معاہدہ 9 دسمبر 2020 سے کررکھا ہے اور 22 جون 2023 ء سے اس گروپ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے کنٹینر ٹرمینل کا 50 سالہ معاہدہ کیا ، 3 فروری 2024 ء کو 25 سالہ معاہدے کے تحت جنرل اور بلک کارگو ٹرمینل کا کنٹرول بھی گروپ نے حاصل کیا، متحدہ عرب امارات کی وہ کمپنیاں جنہوں نے فی الحال پاکستان میںسرمایہ کاری نہیں کی ہے مگر اسرائیل سے شراکت داری میں شامل میںجس میں ای ڈی جی ای گروپ جو دفاعی اور ٹیکنالوجی شعبوں میں کام کرتا ہے ،جی 42 گروپ ڈیٹا سائنس اے آئی پر کا م کرتا ہے،راس ال خامہ اکنامک زون اوردبئی ائرپورٹ فری زون اتھارٹی اسرائیل سے جڑ ے ہوئے ہیں ۔ان میں سے بیشتر پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش رکھتے ہیں،محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے یواے ای سے تقریباً 28 معاہدے ہوچکے ہیں ، جو تجارت ، توانائی ،ثقافت ، دفاع ، بندرگارہ ، خوراک ،لاجسٹک بینکنگ،ریلوے ،معدنیات اور انفراسٹرکچرسمیت دیگر شعبوں میں کیے گئے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کی نگرانی کی ذمہ دار خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ہے ،جس کے چیئرمین وزیر اعظم ہیں ، جنہوںنے ایک 13رکنی اعلی سطحی کمیٹی نائب وزیر اعظم کی زیر صدارت تشکیل دے رکھی ہے کہ وہ ابتدائی طور پر ایسے منصوبے کی نشاندہی کریں جو متحدہ عرب امارات کی قیادت کے سامنے سرمایہ کاری کے لیے پیش کیے جا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال