بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا سرمایہ ہیں، ہمارا ہدف جی 20 میں شمولیت ہے، نائب وزیراعظم
زر مبادلہ کے ذخائربڑھ رہے ہیں، مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی ، ڈیفالٹ کاخطرہ دفن کر دیا ، خطاب

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومتی کوششوں کے نتیجہ میں قومی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا سرمایہ ہیں، ہم افغانستان کے خیر خواہ ہیں ان کی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں، افغانستان سے کہا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمہ کیلئے پرعزم ہیں، علاقائی روابط کو فروغ دیا جا رہا ہے، سفارتی سطح پر اس وقت پاکستان بہت متحرک ہے، ہمارا ہدف ملک کی جی 20 میں شمولیت ہے، ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے، زر مبادلہ کے ذخائر مسلسل بڑھ رہے ہیں، مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے، ڈیفالٹ کے خطرے کو ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کے دوران امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان شیخ اور اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار ، قونصل جنرل سمیت پاکستانی برادری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ چندماہ کے وقفے کے بعد پاکستانی برادری سے دوبارہ ملاقات باعث افتخار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری گزشتہ ملاقات فروری میں ہوئی تھی ، اس وقت میں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی مستقبل کی حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا تھا اور شاید اس وقت آپ زیادہ پراعتماد نہ ہوں لیکن اگر آپ اس وقت کے حالات اور آج کے حالات کا موازنہ کریں تو آپ کہیں زیادہ اعتماد محسوس کریں گے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ہماری حکومت کو اس وقت معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا تھا ، پاک بھارت تنازعہ بعد میں سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معیشت کے حوالے سے بہت بہتری آئی ہے لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ 2017 میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان معاشی طور پر کہیں بہتر پوزیشن میں تھا، انہوں نے 2013 میں جب حکومت سنبھالی تو میکرواکنامک مشکلات کے علاوہ چند ہفتوں کے زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح نمو کی کمی ، دوہرے ہندسے کا افراط زر اور ملک کے ڈیفالٹ کا خطرہ تھا لیکن مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے 4 سال کے عرصہ میں نمایاں معاشی اور اقتصادی کامیابیاں حاصل کیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت عالمی اقتصادی ماہرین کا تجزیہ تھا کہ پاکستان کو اس مشکل صورتحال سے نکلنے میں 12 تا 15 سال درکار ہوں گے لیکن ہم نے اس سے کہیں کم عرصہ میں مشکلات پر قابو پایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت زیادہ لچک ہے اور پاکستان نے 2017 تک ملک کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ آئی ایم ایف اصلاحات کا پروگرام مکمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر کی شرح دوہرے ہندسے سے 3.

59 فیصد کی شرح تک کم ہوئی، زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح تک بڑھ گئے اور جی ڈی پی کی شرح نمو 6.3 فیصد تک پہنچ چکی تھی اور ہم 7 تا 8 فیصد تک کا تخمینہ لگا چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں کئی معاشی ریکارڈ توڑیں گے جس کیلئے دن رات محنت کی جا رہی ہے۔ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے 12 تا 15 سال کے عرصہ کی پیشگوئیوں کے مقابلہ میں 3 سال کے قلیل عرصہ میں نمایاں معاشی کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2017 میں دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت بن چکا تھا اور کئی عالمی ادارے کہہ رہے تھے کہ پاکستان 2030 سے قبل جی 20 میں شامل ہونے کی استعداد رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017 تا 2022 کے عرصہ کے دوران پاکستان کی معیشت کو ریورس گیئر لگ گیا ، سیاسی تبدیلیوں کے خوفناک نتائج سامنے آئے اور دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت 47 ویں درجے تک تنزلی کر گئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کیلئے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا کہ ہم اس وقت کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کریں یا نہ کریں کیونکہ ملک کی معیشت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی قیادت سمجھتی تھی کہ اگر صورتحال برقرار ہی تو خدانخواستہ پاکستان بھی سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ کرسکتا ہے جبکہ بعض عالمی طاقتیں بھی چاہتی تھیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کرے لیکن الحمد للہ ہم ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر آگئے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے اس وقت ایک مشکل فیصلہ کیا اور بطور پارٹی سربراہ عدم اعتماد کا فیصلہ کیا اور پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکالا۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: محمد اسحاق ڈار نے کہا نے کہا کہ پاکستان انہوں نے کہا کہ میں نمایاں کی شرح ملک کی

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری