ضلع ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر و لوئر کے مختلف علاقوں میں آج صبح 6 سے شام 7بجے تک کرفیو نافذ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
---فائل فوٹو
صوبۂ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کے جنڈولہ ڈویژن، جنوبی وزیرستان اَپر و لوئر تینوں اضلاع کے مختلف علاقوں میں آج صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
جنوبی وزیرستان اپر کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق کرفیو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر لگایا گیا ہے، تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے کرفیو کے نفاذ سے متعلق باقائدہ احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ضلع ٹانک کے جنڈولہ ڈویژن میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے جنڈولہ بازار بھی بند رہے گا اور کوڑ قلعہ سے جنڈولہ تک شاہراہ پر آمد و رفت بھی بند رہے گی۔
اسی طرح جنوبی وزیرستان اپر کے جنڈولہ تا مدیجان سڑک پر بھی ٹریفک کی آمد و رفت مکمل طور پر بند ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مولے خان سرائے تا تیارزہ بدر تک کرفیو ہے، اسپین کائی رغزائی تا کوٹکئی بھی سڑک پر آمد و رفت بند رہے گی اور ان تمام علاقوں کے مارکیٹ اور دیگر تجارتی مراکز بھی بند کیے گئے ہیں۔
جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل شکئی سمیت دیگر مختلف علاقوں میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر وانا مسرت زمان کے مطابق کرفیو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر لگایا گیا ہے، کرفیو کے دوران شکئی بازار مکمل بند رہے گا، وانا تا تیارزہ گیٹ، کرب کوٹ، تنائی، عزیز آباد چوک تا درگئی پل تک آمد و رفت پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
ڈپٹی کمشنرز کے احکامات کے مطابق ایمرجنسی سفر صرف شناختی کارڈ و اجازت نامے کے بعد ممکن ہوگا۔
احکامات میں عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی گاڑی دیکھ کر اپنی گاڑی 50 میٹر فاصلے پر دور روکیں۔
دوسری جانب تینوں اضلاع میں کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جنوبی وزیرستان ا کرفیو نافذ کے مطابق بند رہے گیا ہے
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا