صدر ٹرمپ کا بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
واشنگٹن ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 جولائی 2025ء ) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمارا دوست رہا ہے لیکن ہم نے ان کے ساتھ نسبتاً کم کاروبار کیا ہے کیوں کہ ان کے ٹیرف بہت زیادہ ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں اور ان کی طرف سے کسی بھی ملک کی سب سے زیادہ سخت اور ناگوار غیر مالیاتی تجارتی رکاوٹیں عائد کی گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ انہوں نے ہمیشہ اپنے فوجی ساز و سامان کی ایک بڑی اکثریت روس سے خریدی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ چین کے ساتھ ساتھ بھارت بھی روس سے توانائی کا سب سے بڑا خریدار ہے، ایسے وقت میں جب ہر کوئی چاہتا ہے کہ روس یوکرین میں قتل و غارت کو روک دے، سب کچھ اچھا نہیں ہے، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بھارت 25 فیصد ٹیرف ادا کرے گا، نئے ٹیرف کا اطلاق یم اگست سے ہوگا اور اگر بھارت نے ٹیرف ادا نہ کیا تو اس پر بھاری جرمانہ بھی ہوگا۔(جاری ہے)
قبل ازیں آج ہی سکاٹ لینڈ سے واپسی پر امریکی صدر کے آفیشل طیارے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ ’کیا امریکہ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے جا رہے ہیں؟، اس پر صدر انہوں نے جواب دیتے ہوئے اشارہ دیا تھا کہ ’ہاں میرے خیال میں ایسا ہونے والا ہے، انڈیا میرا دوست ہے، انہوں نے میری درخواست پر پاکستان کے ساتھ جنگ بھی ختم کی تھی لیکن تاحال بھارت کے ساتھ ٹیرف کے حوالے سے معاہدہ طے نہیں پایا ہے، بے شک انڈیا ایک اچھا دوست رہا ہے لیکن کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں بھارت نے کہیں زیادہ ٹیرف لگائے ہیں‘۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فیصد ٹیرف انہوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔