پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے ایک تقریب کے دوران ایسا طنز کیا کہ پورا ہال قہقہوں سے گونج اُٹھا۔ آفریدی نے مزاحیہ انداز میں اپنی ٹیم کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

’ہم بوڑھے ہوکر بھی سیمی فائنل میں پہنچ گئے، اب پتہ نہیں انڈیا کس منہ سے کھیلے گا، لیکن ہمارے ساتھ ہی کھیلے گا!‘

شاہد آفریدی اپنے اس بیان میں ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز کے سیمی فائنل کی بات کر رہے تھے۔ ان کے اس بیان نے تقریب کا ماحول خوشگوار بنا دیا، اور شائقین کرکٹ کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھر گئیں۔

اگرچہ یہ جملہ طنزاً کہا گیا، لیکن اس میں پاکستان اور بھارت کے کرکٹ مقابلوں کی دیرینہ چھیڑ چھاڑ بھی جھلکتی ہے۔

شاہد آفریدی ماضی میں بھی اپنے بےباک اور برجستہ بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں، اور ان کے اس تازہ جملے نے سوشل میڈیا پر بھی خوب توجہ حاصل کی ہے۔

جہاں کچھ شائقین نے اسے ’لالہ اسٹائل‘ قرار دیا، وہیں کرکٹ فینز نے اسے روایتی پاک بھارت کرکٹ مقابلوں کی چمک دمک کا ایک اور دلچسپ لمحہ کہا۔

یہ بھی پڑھیے ورلڈ چیمپیئنز شپ آف لیجنڈز: پاک بھارت میچ منسوخ ہونے پر شاہد آفریدی کا ردعمل آگیا

یاد رہے کہ ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز میں 20 جولائی کو ہونے والا پاک بھارت کرکٹ میچ بھارتی کھلاڑیوں کی ہٹ دھرمی، غیر پیشہ ورانہ رویے اور شاہد آفریدی کے خلاف تعصب کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا۔

بھارتی لیجنڈز نے محض اس بنیاد پر میچ کھیلنے سے انکار کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے سابق کپتان شاہد آفریدی میدان میں اتریں گے۔

ذرائع کے مطابق بھارت کے 5 کھلاڑی، یوسف پٹھان، عرفان پٹھان، ہربھجن سنگھ، سریش رائنا اور یوراج سنگھ نے ٹیم انتظامیہ سے صاف الفاظ میں کہا کہ اگر شاہد آفریدی میچ میں شریک ہوئے تو وہ میدان میں نہیں اتریں گے۔ انکار کی یہ وجہ محض کھیل سے نہیں بلکہ آفریدی کی دبنگ شخصیت اور پاکستان سے ان کی وابستگی کی بنیاد پر تھی، جو آج بھی بھارتی اعصاب پر سوار دکھائی دیتی ہے۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بوم بوم آفریدی بھارتیوں کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کا میدان میں آنا ہی بھارتی کھلاڑیوں کے لیے نفسیاتی دباؤ کا باعث بن گیا، جس کے باعث ایک اہم مقابلہ کھیلے بغیر ہی ختم کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں: ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز 2025: پاکستان چیمپیئنز نے انگلینڈ کو 5 رنز سے ہرادیا

ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے منتظمین نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر باقاعدہ اعلان میں میچ کی منسوخی کی تصدیق کرتے ہوئے شائقین سے معذرت کی تھی کہ ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔

سوشل میڈیا پر کرکٹ مداحوں، خاص طور پر پاکستانی صارفین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور بھارتی کھلاڑیوں کے رویے کو کھیل کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔

قبل ازیں، پاکستان چیمپئنز نے ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں انگلینڈ چیمپئنز کو 5 رنز سے شکست دے کر فاتحانہ آغاز کیا تھا، جبکہ دوسرا میچ جنوبی افریقا چیمپیئنز نے ویسٹ انڈیز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد بال آؤٹ پر ہرایا۔

ادھر بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے قوم پرستی کا بہانہ بنا کر کھیل سے فرار کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شیکھر دھون نے تو سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں یہاں تک کہہ دیا کہ میرے لیے ملک سب کچھ ہے، اور ملک سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ حالانکہ یہ لیجنڈز ٹورنامنٹ ہے، جس کا مقصد ماضی کے کرکٹرز کو خالصتاً کھیل کے جذبے سے اکٹھا کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: آل راؤنڈر عماد وسیم ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز کے لیے اسکواڈ میں شامل

دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کے ایک بھارتی اسپانسر نے بھی پاکستان مخالف رویہ اپناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان سے متعلق کسی میچ کا حصہ نہیں بنے گا، حالانکہ کمپنی نے 2 سال قبل ڈبلیو سی ایل سے 5 سالہ اسپانسرشپ معاہدہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ WCL 2025 انگلینڈ کے مختلف شہروں برمنگھم، نارتھمپٹن، لیسٹر، اور لیڈز میں جاری ہے اور اسے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی معاونت حاصل ہے۔ پاک بھارت میچ کی منسوخی کو کھیل سے زیادہ تعصب اور تنگ نظری کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت سیمی فائنل شاہد خان آفریدی ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت سیمی فائنل شاہد خان ا فریدی ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز بھارتی کھلاڑیوں شاہد آفریدی پاک بھارت

پڑھیں:

ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے

بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔

سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔

سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے

اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔

انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔

اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے

سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔

سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔

ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟

انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔

سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت