امریکا سے ٹریڈ ڈیل ہماری معیشت کیلئے بڑی خوش آئند پیشرفت ہے، بلال اظہر کیانی
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ امریکا سے ٹریڈ ڈیل ہماری معیشت کے لیے بڑی خوش آئند پیشرفت ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ محمد اورنگزیب کی واشنگٹن میں امریکی سیکریٹری آف کامرس اور ٹریڈ ری پریزنٹیٹو ایمبسڈر سے ملاقات ہوئی، ہماری ٹیم کے مستقل مذاکرات ہوتے رہے جس کے نتیجے میں یہ ڈیل سائن ہوئی۔
بلا ل اظہر کیانی نے کہا کہ اس ڈیل کے نتیجے میں پاکستان سے امریکا جانے والی اشیاء کے ٹیرف میں کمی ہوگی، اس ٹیرف میں کمی سے بہت بڑا اثر آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں 32 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ میں سے 6 ارب ڈالر امریکا کی تھیں، پاکستان کی سنگل لارجسٹ ایکسپورٹ ڈیسٹی نیشن امریکا ہے، ٹیرف میں کمی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں یو ایس انویسٹمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ بڑھیں گے۔
کراچی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان.
وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں امریکی انوسیٹمنٹ میں اضافہ دیکھا جائے گا، ہماری حکومت کی یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اس کامیابی سے پاکستان کو معاشی طور پر فائدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ڈیل ہماری کامیاب سفارتکاری کی عکاسی کرتی ہے، اپنی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو ہم نے مضبوط کیا ہے، بھارت پر 25 فیصد ٹیرف کی بات ہوئی ہے یقیناً ہمیں اس کا اپنے ریجن کے اندر فائدہ ہوگا۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حال ہی میں نائب وزیراعظم کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی، اس سے پہلے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات ہوئی، یہ ٹریڈ ڈیل ایک مضبوط سفارتکاری کا نتیجہ ہے، ہماری کامیاب سفارتکاری جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اظہر کیانی نے کہا بلال اظہر کیانی نے کہا کہ
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔