چین اور سوئٹزرلینڈ نے باہمی جیت پر مبنی تعاون کے جذبے کو پروان چڑھایا ہے، چینی عہد یدار
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
چین اور سوئٹزرلینڈ نے باہمی جیت پر مبنی تعاون کے جذبے کو پروان چڑھایا ہے، چینی عہد یدار WhatsAppFacebookTwitter 0 31 July, 2025 سب نیوز
برن :سوئس فیڈرل پارلیمنٹ کے قومی ایوان نمائندگان کے اسپیکر رینک اور فیڈرل کونسل کے صدر کرونی کی دعوت پر چین کی قومی عوامی کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین چاؤلہ جی نے 28 سے 31 جولائی تک سوئٹزرلینڈ کا سرکاری و خیر سگالی دورہ کیا۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطابق دونوں رہنماؤں سے ملاقات کے دوران چاؤلہ جی نے کہا کہ 75 سال قبل سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر “مساوات، جدت طرازی اور باہمی جیت” پر مبنی تعاون کے جذبے کو پروان چڑھایا ہے اور مختلف سماجی نظاموں، ترقی کے مختلف مراحل اور بڑے اور چھوٹے ممالک کے درمیان تعاون کی ایک مثال قائم کی ہے۔
چاؤلہ جی نے کہا کہ باہمی احترام اور اعتماد چین سوئٹزرلینڈ تعلقات کی طویل مدتی اور مستحکم ترقی کے لئے ایک اہم بنیاد ہے۔ چین سوئٹزرلینڈ کے ساتھ اعلی ٰ سطحی تبادلوں کا اچھا رجحان برقرار رکھنے کا خواہاں ہے اور حقیقی اور ہمہ جہت چین کو سمجھنے کے لیے مزید سوئس رہنماؤں اور اراکین پارلیمنٹ کو چین کا دورہ کرنے کے لئے خوش آمدید کہتا ہے۔ چین باہمی تعاون اور تبادلوں کو بڑھانے کے لئے سوئٹزرلینڈ کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ سوئٹزرلینڈ چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے والا پہلا یورپی ملک ہے ، اور جب سے یہ معاہدہ نافذ العمل ہوا ، دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعاون تیزی سے فروغ پایا ہے۔ اس موقع پر سوئس قومی ایوان نمائندگان کےاسپیکر رینک نے کہا کہ اس سال سوئٹزرلینڈ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ ہے اور باہمی احترام، کشادگی اور خیر سگالی کی بنیاد پر سوئٹزرلینڈ اور چین کے تعلقات نے مسلسل ترقی کی ہے اور ٹھوس نتائج حاصل کیے ہیں۔ فیڈرل کونسل کے صدر کرونی نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ اور چین اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں اور کثیر الجہتی کی مضبوطی سے حمایت کرتے ہیں۔ چین کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا سوئٹزرلینڈ کے لئے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین نے پاکستانی ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ PRSS-1 کو کامیابی سے لانچ کر دیا اگلی خبرچین کی اقتصادی اور سماجی ترقی اعلی معیار کی ترقی کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، چینی صدر چین کی اقتصادی اور سماجی ترقی اعلی معیار کی ترقی کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، چینی صدر پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف کمی کا معاہدہ خوش آئند ہے: عاطف اکرام شیخ چین اور امریکہ کو مشاورت کے لیے مزید چینلز قائم کرنے چاہئیں، چینی وزیر خارجہ چین امریکا اقتصادی و تجارتی اختلافات دور کرنے کے لئے ’’90 دن تک توسیع‘‘ کا مطلب ہے کیا؟ اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن منتخب کرلیا آئی ایم ایف کی پاکستان کی اقتصادی شرح نمو حکومتی تخمینوں سے کم رہنے کی پیشگوئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں