وزیر اعظم مختلف شعبوں میں ڈبلیو ای ایف کے ساتھ مکمل تعاون کے خواہاں
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے میں پاکستان کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے، بالخصوص معاشی ترقی، صنفی شمولیت، پیشہ ورانہ تربیت اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں۔وہ ورلڈ اکنامک فورم کی منیجنگ ڈائریکٹر اور بورڈ ممبر سعدیہ زاہدی سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے بدھ کو اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔ورلڈ اکنامک فورم کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بھی ان شعبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
بات چیت کے دوران وزیراعظم نے فورم کے ساتھ پاکستان کی مضبوط اور دیرینہ شراکت داری کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم کی پاکستان کے ساتھ مسلسل مصروفیات کو سراہا۔شہباز شریف نے سعدیہ زاہدی کو حالیہ برسوں میں پاکستان کی نمایاں معاشی بحالی کے بارے میں آگاہ کیا اور پائیدار ترقی کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کیا۔
سعدیہ زاہدی نے اپنے دورے کے دوران گرمجوشی سے مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ملک کی مثبت اقتصادی رفتار کی تعریف کی اور ان کی قیادت میں موجودہ حکومت کی طرف سے کئے گئے اصلاحاتی اقدامات کو سراہا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں اطراف نے پائیدار ترقی کے حصول کے لیے پاکستان اور ورلڈ اکنامک فورم کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ورلڈ اکنامک فورم فورم کے کے ساتھ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔