گھگھر پھاٹک میں بلوچستان کے جوڑے اور بچے کا قتل، مقتولہ کے بھائی اور والد پر مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
کراچی:
گھگھر پھاٹک بمبوگوٹھ میں پسند کی شادی پر قتل کیے گئے بلوچستان کے جوڑے اور کمسن بچے کو سپرد خاک کردیا گیا، اسٹیل ٹاؤن پولیس نے مقتولہ سکینہ کے بھائی، والد سمیت 6 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسٹیل ٹاؤن تھانے میں مقدمہ مقتول عبدالمجید کے بھائی امام بخش ولد محمد بخش کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں مقتولہ سکینہ کے بھائی شہزاد عرف راجہ، والد گلاب خان، میرعلی عرف حسن سمیت 6 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقتول عبدالمجید نے سات سے آٹھ سال قبل سکینہ سے کورٹ میرج کی تھی، عبدالمجید کا 3 سالہ بچہ عبدالنبی بھی تھا یہ لوگ 8 ماہ سے گھگھر پھاٹک بمبوگوٹھ میں رہائش پذیر تھے۔
امام بخش کے مطابق عبدالمجید محنت مزدوری کرتا تھا شہزاد عرف راجہ نے فون پر مجھے بتایا کہ ان لوگوں کو قتل کردیا ہے جاکر لاشیں اٹھالو، پسند کی شادی کرنے پر دونوں خاندانوں میں تنازع چل رہا تھا اور دوسال قبل صلح ہوگئی تھی، دوست کے ہمراہ بھائی کے گھر پہنچا تو لاشیں پڑی تھیں جنھیں کلہاڑی کے وار کرکے قتل کیا گیا تھا، مقتولین کی لاش تدفین کے لیے بلوچستان کے علاقے بیلہ منتقل کی گئی تھیں لیکن تدفین سے انکار پر مقتولین کی میتیں دوبارہ سہراب گوٹھ ایدھی سرد خانے منتقل کردی گئیں۔
سرد خانے کے باہر ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے مقتول عبدالمجید کے بڑے بھائی نوروز نے بتایا کہ بھائی، بھابی اور بھتیجے کو قتل کرنے کے بعد بھابھی کے بھائی نے خود فون کرکے واقعے کی اطلاع دی، مقتولین کو قتل کرنے کے واقعات میں 4 افراد ملوث ہیں، عبدالمجید اور سکینہ نے چار یا پانچ سال قبل پسند کی شادی کی تھی ہماری صلح ہو گئی تھی اور اس کے باوجود قتل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھابھی اپنی مرضی سے آئی تھی اور پھر کورٹ میں جاکر نکاح کیا، بلوچستان کے زمیندار نے کہا کہ تم ایک یا دو سال کے لیے یہاں ہو اگر تمہارا کوئی مرگیا ہے تو اسے اپنے آبائی گاوں لے کر جاؤ یہاں تدفین کی اجازت نہیں ہے، مقتول کی تدفین گھگھر پھاٹک میں ہی کی جائے گی اس لیے وہ میتیں دوبارہ لے کر آئے ہیں۔
انھوں نے حکومت وقت سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
بعدازاں مقتولین کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، نماز جنازہ گھگھر پھاٹک کے مقامی قبرستان میں ادا کی گئی، نماز جنازہ میں مقتولین کے اہل خانہ، عزیز واقارب اور علاقہ مکین بڑی تعداد میں شریک ہوئے، نماز جنازہ کے بعد مقتولین کو آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلوچستان کے کے بھائی کیا گیا
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز