بیٹی کو 24 گھنٹوں میں 2 بار دل کا دورہ پڑا، گلوکارہ عینی خالد کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
پاکستانی نژاد برطانوی گلوکارہ عینی خالد نے بیٹی کی زندگی کی جنگ کی داستان بیان کردی۔
عینی خالد نے اپنی سات سالہ بیٹی عائشہ کی صحت سے متعلق دل دہلا دینے والی تفصیلات انسٹاگرام پر شیئر کی ہیں جو سوشل میڈیا پر سب کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی 7 سالہ بیٹی عائشہ، جو مکمل طور پر صحت مند تھی، 23 جنوری 2024 کو 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں دو کارڈیک اریسٹ کا شکار ہو گئی۔
عینی نے لکھا کہ عائشہ کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی تھی اور آکسیجن کی شدید کمی کے باعث اس کے اعضا کام کرنا چھوڑنے لگے۔ 45 منٹ تک آکسیجن کی کمی نے اس کی حالت انتہائی نازک بنا دی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے اسے وینٹیلیٹر، دل و پھیپھڑوں کی مشین اور ڈائیلاسز پر منتقل کیا جو ان کیلئے زندگی کا سب سے تکلیف دہ وقت تھا۔
A post common by Annie Khalid (@anniecurli)
عینی نے اپنی بیٹی عائشہ کو بے ہوش اور مشینوں میں جکڑا دیکھنے کے لمحات کو نہایت تکلیف دہ قرار دیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق عائشہ کو دماغی چوٹ لگی تھی، وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئی اور Peripheral Neuropathy کا شکار ہوچکی تھی۔
گلوکارہ نے بتایا کہ انہوں نے خدا سے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا، “جب دوا نے جواب دے دیا تو اللہ کی رحمت نے سنبھالا۔” عینی نے اپنی بیٹی کی زندگی کو اللہ کا معجزہ قرار دیا اور کہا کہ ان شاء اللہ وہ ایک دن وہ دوبارہ چلے گی۔
عینی خان نے تمام مداحوں اور صارفین سے عائشہ کی صحت کے لیے دعا کی درخواست بھی کی۔ سوشل میڈیا پر گلوکارہ کی یہ پوسٹ وائرل ہورہی ہے جس پر ساتھی فنکاروں سمیت مداحوں اور صارفین کی جانب سے عینی کی بیٹی کیلئے صحتیابی کی دعائیں کی جارہی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔