مزید یورپی ممالک فلسطین کو تسلیم کرنے کے قریب، پرتگال اور جرمنی بھی تیار ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
لندن/برلن: فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا عالمی رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ برطانیہ اور فرانس کے بعد اب پرتگال اور جرمنی نے بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
پرتگال کے وزیر خارجہ پاؤلو رنگیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک آئندہ ماہ کے آغاز میں فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرتگال ایک خودمختار ملک ہے اور اپنی خارجہ پالیسی آزادانہ طور پر تشکیل دیتا ہے۔
ادھر جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان وڈیفل نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور فلسطینی قیادت کے درمیان دو ریاستی حل پر مذاکرات کا عمل بحال نہ ہوا تو جرمنی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں برطانیہ، فرانس، مالٹا اور کینیڈا بھی فلسطینی ریاست کو مشروط طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
فلسطینی ریاست کے حق میں یہ عالمی بیانیہ اسرائیل پر دباؤ بڑھانے اور مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کو تسلیم کرنے فلسطین کو
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔