واقعہ کے بعد متاثرہ فرد سیشن جج کے پاس استغاثہ دائر کرے گا۔ سیشن جج تفتیش ایف آئی اے کو بھجوائے گا اور ایف آئی اے کا تفتیشی افسر چودہ روز میں رپورٹ پیش کرنے کا پابند ہوگا۔ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر اور پہلے روز سے ساٹھ روز کے اندر فیصلہ ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ نے پولیس حراست میں تشدد یا ہلاکت کی تفتیش پولیس سے لیکر ایف آئی اے کے سپرد کر دی۔ پارلیمنٹ کی طرف سے جاری ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ  پر عملدرآمد شروع ہو گیا۔ استغاثہ دائر ہونے کے بعد سیشن جج کیس ایف آئی اے کو بھجوائے گا۔ پارلیمنٹ نے پولیس کی حراست میں تشدد اور کسی کی ہلاکت کے کیس کی تفتیش کے اختیار پولیس سے واپس لے لیے۔

اب تفتیش ایف آئی اے کرے گی۔ واقعہ کے بعد متاثرہ فرد سیشن جج کے پاس استغاثہ دائر کرے گا۔ سیشن جج تفتیش ایف آئی اے کو بھجوائے گا اور ایف آئی اے کا تفتیشی افسر چودہ روز میں رپورٹ پیش کرنے کا پابند ہوگا۔ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر اور پہلے روز سے ساٹھ روز کے اندر فیصلہ ہوگا۔ غلام اکبر خان سیال ایڈووکیٹ کے مطابق اس کا جرم ناقابل ضمانت، سزا عمر قید اور 30 لاکھ روپے جرمانہ اور افسران کی معطلی اور مظلوم خاندان کو تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایف آئی اے تفتیش ایف

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل