پولیس حراست میں تشدد یا ہلاکت کی تفتیش ایف آئی اے کے سپرد کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
واقعہ کے بعد متاثرہ فرد سیشن جج کے پاس استغاثہ دائر کرے گا۔ سیشن جج تفتیش ایف آئی اے کو بھجوائے گا اور ایف آئی اے کا تفتیشی افسر چودہ روز میں رپورٹ پیش کرنے کا پابند ہوگا۔ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر اور پہلے روز سے ساٹھ روز کے اندر فیصلہ ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ نے پولیس حراست میں تشدد یا ہلاکت کی تفتیش پولیس سے لیکر ایف آئی اے کے سپرد کر دی۔ پارلیمنٹ کی طرف سے جاری ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ پر عملدرآمد شروع ہو گیا۔ استغاثہ دائر ہونے کے بعد سیشن جج کیس ایف آئی اے کو بھجوائے گا۔ پارلیمنٹ نے پولیس کی حراست میں تشدد اور کسی کی ہلاکت کے کیس کی تفتیش کے اختیار پولیس سے واپس لے لیے۔
اب تفتیش ایف آئی اے کرے گی۔ واقعہ کے بعد متاثرہ فرد سیشن جج کے پاس استغاثہ دائر کرے گا۔ سیشن جج تفتیش ایف آئی اے کو بھجوائے گا اور ایف آئی اے کا تفتیشی افسر چودہ روز میں رپورٹ پیش کرنے کا پابند ہوگا۔ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر اور پہلے روز سے ساٹھ روز کے اندر فیصلہ ہوگا۔ غلام اکبر خان سیال ایڈووکیٹ کے مطابق اس کا جرم ناقابل ضمانت، سزا عمر قید اور 30 لاکھ روپے جرمانہ اور افسران کی معطلی اور مظلوم خاندان کو تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایف آئی اے تفتیش ایف
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔