سلیمان شہباز کیخلاف چیک ڈس آنر کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز کے خلاف چیک ڈس آنر کے مقدمے کے اندراج کے سیشن کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے آج سماعت کے دوران سلیمان شہباز کی دائر کردہ درخواست پر فیصلہ سنایا، عدالت نے قرار دیا کہ سیشن کورٹ نے 10 جولائی کو جو احکامات جاری کیے وہ قانون کے تقاضوں کے منافی تھے اور مقدمہ درج کرنے کا حکم حقائق کا مکمل جائزہ لیے بغیر دیا گیا۔
درخواست گزار کی استدعا پر عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون کی رو سے بغیر مناسب شواہد اور قانونی تقاضوں کے مقدمہ درج کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
9 سال پہلے ڈبل سواری پر چالان ہوا، آج تک پرچہ خارج نہیں کروا سکا، 5 بار ضمانت، بار بار گرفتاری، بیوی سے بھی لڑائی۔۔ عام شہری کا ایک مقدمہ جس نے پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ مقدمات کے اندراج کے حوالے سے تمام قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔