علامہ راجہ ناصر عباس نے زائرین کا مسئلہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اٹھادیا، محسن نقوی طلب
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ کیا پاکستان میں رہنے والوں کے مذہبی حقوق کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ پابندی سے عوام کو کم از کم 50 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عطا الرحمٰن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میںچیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے زائرین کے ایران عراق بزریعہ سڑک سفر پر پابندی کےحوالہ سے بریفنگ دی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین سینیٹر عطا الرحمٰن نے زائرین کے معاملے پر وزیر داخلہ محسن نقوی کو طلب کرلیا۔ سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ کیا پاکستان میں رہنے والوں کے مذہبی حقوق کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ پابندی سے عوام کو کم از کم 50 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔ وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ ہم نے کوئی پابندی نہیں لگائی، ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہیں، تاہم وزیر داخلہ زائرین کی بذریعہ سڑک روانگی پر پابندی کی پالیسی جب تک واپس نہیں لیتے ہم کچھ نہیں کرسکتے۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ اگر سیکیورٹی کا مسئلہ تھا تو وقت دے کر اعلان کیا جاتا، وزیر مذہبی امور نے کہا کہ اسرائیل-ایران جنگ کی وجہ سے سڑک کے ذریعے زائرین پر پابندی لگائی گئی، سیکریٹری مذہبی امور نے کہا کہ اگر زائرین کی بسوں پر خودکش حملے ہوگئے تو کیا ہوگا؟ سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ زائرین کی بذریعہ سڑک روانگی پر پابندی کے باعث 50 ارب روپے پھنس گئے ہیں، یہ 50 ارب روپے ہوٹلوں، گاڑیوں، کھانوں کی بکنگ کی مد میں خرچ ہوچکے ہیں،سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ بی ایل اے تک نے کہا ہے کہ وہ زائرین پر حملہ نہیں کرے گی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزیر داخلہ کو کمیٹی میں بلا لیتے ہیں، سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ابھی ایک اور مالیاتی اسکینڈل آنے والا ہے، زائرین سے فی کس ایک لاکھ 80 روپے لے لیے گئے ہیں۔
قائمہ کمیٹی نے زائرین کے معاملے پر وزیر داخلہ محسن نقوی کو طلب کرلیا۔اجلاس میں ایم ڈبلیوایم کے مرکزی وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری انجینئر ظہیر عباس نقوی، مرکزی ترجمان محسن شہریار سید و دیگر بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ قائمہ کمیٹی وزیر داخلہ پر پابندی ارب روپے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔