کوئٹہ، دو کمسن بچیوں کی بوری بند لاشیں برآمد، تفتیش جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
پولیس کے مطابق مقتولین کی عمریں تقریباً 3 سے 5 سال کے درمیان تھیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق دونوں بچیوں کو منہ میں کپڑا ٹھونس کر اور سانس بند کرکے قتل کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دو معصوم بہنوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ بچیوں کی عمریں 3 سے 5 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ پولیس نے مقتولہ بچیوں کے والدین کو بھی شامل تفتیش کر لیا ہے۔ کوئٹہ کے علاقے سریاب میں دو معصوم بچیوں کے قتل کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس کے مطابق بچیاں سگی بہنیں تھیں، جن کی شناخت یسریٰ اور میرب کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمریں تقریبا 3 سے 5 سال کے درمیان تھیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق دونوں بچیوں کو منہ میں کپڑا ٹھونس کر اور سانس بند کرکے قتل کیا گیا۔ ان کی لاشیں کلی بنگلزئی کے علاقے میں واقع ایک زیر تعمیر مکان سے ملی ہیں، جہاں سے پولیس نے شواہد جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچیوں کے والدین کے درمیان ڈیڑھ سال قبل علیحدگی ہو چکی تھی، اور دونوں خاندانوں کے درمیان تنازع بھی جاری تھا۔ جس کے پیش نظر دونوں خاندانوں کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اہل علاقہ اور دیگر قریبی افراد سے بھی پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس المناک سانحے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز