ایف آئی اے کی کارروائیاں، حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 5 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
کوئٹہ:
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) بلوچستان زون نے مختلف کارروائیوں کے دوران حوالہ ہنڈی اورغیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق بلوچستان زون نے کارروائی کےدوران کوئٹہ اورگوادرکے مختلف علاقوں میں حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 5ملزمان وسیم احمد، طارق احمد، عبدالخلیق، احمد اور مقصود کو گرفتار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان سے مجموعی طور پر 75 لاکھ 90 ہزار پاکستانی روپے برآمد ہوئے، ملزمان سے چیک بکس،موبائل فونز اورحوالہ ہنڈی سے متعلق دیگر شواہد برآمد کرلیےگئے ہیں۔
ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان ان کے قبضے سے برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو تسلی بخش جواب نہ دے سکے تاہم گرفتارملزمان کے خلاف مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔