خیبرپختونخوا: تیز بارشوں کے باعث بالائی علاقوں میں گلیشیائی جھلیں پھٹنے کا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
(ویب ڈیسک)خیبر پختونخوا میں وقفے وقفے سے ہونےوالی تیز بارشوں کے باعث بالائی علاقوں میں گلیشیائی جھلیں پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا،اس حوالے سے پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اضلاع اور محکموں کو الرٹ جاری کردیا ہے ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق چترال اپر اور لوئر، دیر، سوات اور کوہستان اپر کے عوام کو ممکنہ گلیشیئرز کے پھٹنے سے متعلق خبردار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو حساس مقامات کی نگرانی، بروقت وارننگ اور انخلاء کی مشقیں یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ شہری خصوصا ًسیاح ندی نالوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز اور گاڑیاں تیز بہاؤ والے پانی میں لے جانے سے اجتناب کریں۔
تبادلوں کے منتظر اساتذہ کے لئےاچھی خبر
پی ڈی ایم اے کے مطابق ممکنہ متاثرہ علاقوں میں انخلا کے لیے مقامات تیار، ہنگامی سامان اور ریسکیو سروسز این ایچ اے، ایف ڈبلیو او اور سی اینڈ ڈبلیو کو الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات اٹھانے کا مراسلہ ارسال کردیا گیاہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔