صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور نے ایف اے ٹی ایف کو خط لکھنے اور حقائق بیان کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی  بھارت کو خطے میں دہشتگردی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ  سردار علی امین گنڈا پور نے بھارت کی جانب سے ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔

یہ بھی پڑھیں بھارت نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا بیان فیٹف میں پاکستان کیخلاف بطور ثبوت جمع کردیا

انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ نہ صرف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کو خط لکھیں گے بلکہ خود بھی وہاں جا کر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا ’آج جب میں الیکشن میں مصروف تھا تو مجھے اطلاع ملی کہ بھارتی حکومت نے میرے ایک بیان کو توڑ مروڑ کر ایف اے ٹی ایف میں پیش کیا ہے، جو سراسر گمراہ کن ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، بھارت ہمیشہ سے پاکستان اور خطے میں دہشتگردی کو ہوا دیتا آیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بطور سابق وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان، وہ بھارتی مظالم اور مداخلت سے بخوبی واقف ہیں۔

’میں ایف اے ٹی ایف کو ذاتی طور پر جا کر بتاؤں گا کہ بھارت کشمیر، گلگت بلتستان اور پورے پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔‘

انہوں نے افغانستان میں بھارت کی موجودگی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ بھارت نے وہاں درجنوں سفارت خانے کھولے، جن کا مقصد تجارت یا سفارت کاری نہیں بلکہ پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دینا تھا۔

بھارت کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالنے کا مطالبہ

وزیر اعلیٰ نے ایف اے ٹی ایف سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو اس کے دہشتگردانہ اقدامات پر گرے لسٹ میں شامل کیا جائے۔

’جس طرح بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے، میں عالمی سطح پر اسے بے نقاب کروں گا۔‘

پاکستان کی قومی یکجہتی کا اظہار

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت، عوام، دفاعی ادارے اور افواج دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں۔

’ہم نے حالیہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، جس سے واضح ہو گیا کہ پاکستان اپنے دفاع سے ہرگز غافل نہیں۔‘

انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کو سخت الفاظ میں پیغام دیا ’مودی! ہم تمہاری طرح رات کی تاریکی میں حملے نہیں کرتے، ہم حق اور سچ کی طاقت سے آتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔‘

آخر میں وزیر اعلیٰ نے عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:

’آج مجھے عمران خان کی وہ بات یاد آ رہی ہے جو انہوں نے نریندر مودی کے بارے میں کہی تھی  کہ تم ایک Small man in a big office ہو۔‘

بھارت نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا بیان فیٹف میں پاکستان کیخلاف بطور ثبوت جمع کردیا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف اے ٹی ایف وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور ایف اے ٹی ایف میں دہشتگردی پاکستان کی کہ پاکستان وزیر اعلی انہوں نے علی امین کہ بھارت کہا کہ

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا