کراچی: سرکاری نمبر پلیٹ کے غلط استعمال پر سعود آباد گورنمنٹ اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر آغا عامر معطل
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
سندھ حکومت نے سرکاری نمبر پلیٹ کے غلط استعمال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سعود آباد گورنمنٹ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر آغا عامر کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
پرائیویٹ گاڑی پر سرکاری نمبر پلیٹ استعمال کی جا رہی تھیذرائع کے مطابق ڈاکٹر آغا عامر نے سرکاری کلٹس کار کی نمبر پلیٹ کو تبدیل کر کے اپنی ذاتی گاڑی پر نصب کر دیا تھا۔ نہ صرف یہ، بلکہ نمبر پلیٹ کو سبز رنگ کر کے ٹمپرنگ بھی کی گئی تاکہ اسے سرکاری گاڑی ظاہر کیا جا سکے۔
ٹول پلازہ پر گاڑی کو روکا گیا، جھوٹ بولنے کی کوشش ناکاممعاملہ اُس وقت سامنے آیا جب یہ پرائیویٹ گاڑی شاہراہ بھٹو ٹول پلازہ پر پہنچی، جہاں اسے روکا گیا۔ گاڑی ایک دوسرے شخص کے زیرِ استعمال تھی، جس نے خود کو ایم ایس ڈاکٹر آغا عامر ظاہر کیا اور ٹول ٹیکس دینے سے انکار کر دیا۔
ٹول پلازہ کے عملے نے مشکوک رویے پر گاڑی کی تصاویر لے کر اعلیٰ حکام کو روانہ کر دیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ گاڑی اصل میں پرائیویٹ تھی اور اس پر غیر قانونی طور پر سرکاری نمبر پلیٹ نصب کی گئی تھی۔
چیف سیکرٹری سندھ کا فوری نوٹس، معطلی کا نوٹیفکیشن جاریواقعے کی اطلاع ملنے پر چیف سیکرٹری سندھ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر آغا عامر کو ان کے عہدے سے معطل کرنے کا حکم دیا۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس میں معطل ایم ایس کو محکمہ صحت کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈاکٹر آغا عامر ایک سال قبل تعینات ہوئے تھےیاد رہے کہ ڈاکٹر آغا عامر کو گزشتہ سال ڈاکٹر پیر غلام نبی شاہ جیلانی کی جگہ ایم ایس گورنمنٹ اسپتال سعود آباد تعینات کیا گیا تھا۔
قانونی کارروائی کا امکانذرائع کے مطابق معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے متعلقہ ادارے اس پر مزید قانونی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، کیوں کہ یہ سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے زمرے میں آتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر آغا عامر سعود آباد گورنمنٹ اسپتال کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر آغا عامر سعود آباد گورنمنٹ اسپتال کراچی سرکاری نمبر پلیٹ گورنمنٹ اسپتال ڈاکٹر آغا عامر ایم ایس کر دیا
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز