راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جولائی 2025ء ) راولپندی کے علاقہ ڈی ایچ اے کے سیلابی پانی میں کار سمیت بہہ جانیوالے ریٹائرڈ کرنل کی لاش مل گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی کے پوش رہائشی علاقہ ڈی ایچ اے کے سیلابی نالے میں بہنے والے کرنل ریٹائرڈ اسحاق قاضی کی لاش مل گئی، ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ گاڑی اور بیٹی سمیت سیلابی پانی میں بہہ جانے والے پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل کی لاش دریائے سواں کے کنارے سے ملی، تاہم ان کی بیٹی اور گاڑی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اور متاثرہ خاتون کی تلاش تک سرچ آپریشن بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔

بتایا جارہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید بارش کے باعث علاقہ زیر آب آ چکا تھا کہ اسی دوران ڈی ایچ اے کے رہائشی فوج کے 64 سالہ ریٹائرڈ کرنل اسحاق قاضی اپنی 25 سالہ بیٹی کے ہمراہ گاڑی میں گھر سے نکلے کہ راستے میں ان کی گاڑی خراب ہوگئی اور اسی دوران سیلابی پانی کا ایک بڑا ریلہ آ یا اور بہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے دونوں باپ بیٹی بھی گاڑی کے ساتھ ہی پانی میں بہہ گئے، نالے میں کار سمیت بہہ جانے والے افراد گاڑی سے مدد کے لیے لوگوں کو پکارتے رہے۔

(جاری ہے)

حادثے کے بعد ریسکیو حکام نے بتایا کہ پانی میں بہہ جانے والے افراد کی تلاش شروع کردی گئی، پولیس اور ریسکیو 1122 کے غوطہ خور سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، گزشتہ روز ڈی ایچ اے کے برساتی نالے میں تلاش کا عمل مکمل کیا گیا جس کے بعد آج دریائے سواں کے داخلی و خارجی راستوں پر سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے جہاں سے ریسکیو ٹیموں کو پہلے گاڑی کا بمپر اور سائیڈ مرر ملے تاہم گاڑی کا کچھ پتہ نہیں چل سکا تھا۔

اب معلوم ہوا ہے کہ ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ گاڑی کا بونٹ اور دروازہ بھی دریائے سواں پل کے نیچے سے ملا اور بعد ازاں گاڑی اور بیٹی سمیت سیلابی پانی میں بہہ جانے والے پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل کی لاش بھی دریائے سواں کے کنارے سے ملی جب کہ بیٹی کی تلاش کا کام جاری ہے، اس حوالے سے ریسکیو حکام کی جانب سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں بارش کا سلسلہ رکنے کے بعد پانی کی سطح کم ہونے کے باعث آج دریائے سواں میں سرچ آپریشن مکمل کر لیا جائے گا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ریٹائرڈ کرنل کی لاش سیلابی پانی میں بہہ جانے والے پانی میں بہہ دریائے سواں ڈی ایچ اے کے کی تلاش

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد