وزیر اعظم کے کزن کی نماز جنازہ و تدفین
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کے کزن میاں شاہد شفیع کو سپرد خاک کردیا گیا۔
میاں شاہد شفیع کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کی گئی جس میں شریف فیملی کے نمایاں افراد اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
سابق وزیرِ اعظم و مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کے کزن شاہد شفیع انتقال کر گئے۔
ان کی نماز جنازہ اتفاق مسجد ماڈل ٹاؤن میں قاری نصیر نے پڑھائی جس میں وزیر اعظم شہباز شریف، سابق وزیر اعظم نواز شریف، حمزہ شہباز، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، امیر مقام، سلمان شہباز نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ دیگر افراد میں عابد شیر علی، بلال یاسین، خواجہ احمد حسان، میاں جاوید لطیف، گوہر اعجاز، روحیل منیر، سہیل ضیاء بٹ، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی، سہیل ضیاء بٹ، رانا محمد ارشد اور عرفان دولتانہ شامل تھے۔
مرحوم کو انجینئرنگ یونیورسٹی کے قریب بدھو کا آوا کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف نواز شریف شاہد شفیع کے کزن
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔