پنجاب کو زہریلے صنعتی مادوں سے پاک کرنے کیلئے میگا آپریشن کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کو زہریلے صنعتی مادوں اور زہریلی دھاتوں سے پاک کرنے کیلئے میگا آپریشن کا حکم دے دیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس حوالے سے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں انڈسٹریل یونٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ماحول کے تحفظ (ای پی اے) کے ادارے کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ، آبپاشی، واسا، انڈسٹری، صحت، ایل ڈی اے سمیت دیگر متعلقہ محکمے مل کر میگا آپریشن کریں گے، پنجاب بھر میں نہروں اور نالوں کا معائنہ ہوگا، ماحول کا عالمی معیار قائم کیا جائے گا۔صوبے بھر میں اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر سروے کا آغاز کر دیا گیا، صنعتوں سے نکلنے والے زہریلے کچرے اور مواد کو نہروں اور نالوں میں پھینکنے پر مکمل پابندی ہوگی، زہریلا کچرا عوام میں مہلک بیماریاں پھیلانے کی بنیادی وجہ ہے۔اجلاس میں ویسٹ ٹریٹمنٹ کے بغیر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، 28 ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور صنعتوں کو نوٹس جاری کر دیئے گئے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہڈیارہ ڈرین میں زہریلا اور انسانی صحت کے لئے خطرناک کچرا ڈالنے کا سخت نوٹس لے کر کارروائی کا حکم دیا تھا، وزیر اعلیٰ نے اداروں کو 10 اگست تک ہڈیارہ ڈرین کی صفائی کی ڈیڈلائن دے دی۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ زہریلے صنعتی کچرے سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، پھیپھڑوں کے کینسر سمیت دیگر مہلک بیماریاں بڑھ رہی ہیں، فیصل آباد، شیخوپورہ، سیالکوٹ، قصور کے صنعتی نالوں کی سٹڈی مکمل کر لی گئی، آلودگی پھیلانے پر جرمانوں کی قانون سازی مکمل کر لی گئی، جس پر فوری عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔حکومت نے ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے لئے صنعتوں کو بلا سود قرضے دینے کا فیصلہ کیا ہے، سیکرٹری انڈسٹری کو قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ میں فوری ویسٹ واٹر پلانٹ لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ہدایت کی ہے کہ 31 اگست تک مکمل ہیلتھ سروے پیش کیا جائے، رپورٹ پر عمل یقینی بنایا جائے، 10 اگست سے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیصلہ کیا گیا
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔