26 ویں ترمیم، انتظامیہ عدلیہ سے اہم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
26 ویں ترمیم کے بعد انتظامیہ عدالتوں سے اہم مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی،ان میں بڑی پیش رفت 9 مئی کے مقدمات پی ٹی آئی کے204 رہنماؤں و کارکنوں کو سزائیں ہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 9 مئی کے مقامات کی تیز سماعت میں اہم کردار اور ان کی سربراہی میں بینچ نے چار ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کی ڈیڈلائن دی۔
اسی ترمیم کے تحت آئینی بینچ نے 103سویلین کیسز کی فوجی عدالتوں میں سماعت کی توثیق کی،عمران خان کے بھانجے سمیت بیشتر سزایافتہ جیل میں فوجی عدالتوں میں سزاؤں کے خلاف اپیل کا حق ملنے کی مجوزہ قانون سازی کے منتظر ہیں۔
حکومت نے اپیل کے اس حق کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ گرما تعطیلات کے باعث تین اہم کیسز مخصوص نشستیں، ججوں کی ٹرانسفر اور فوجی عدالتوں پر فیصلے ہوئے ہیں، ادھر حکومت27 ویں آئینی ترمیم کے لیے موزوں وقت کی منتظر ہے۔9 مئی کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کی محاذ آرائی نے عدلیہ کا کردار اہم بنایا، اسٹیبلشمنٹ کو اس وقت مایوسی ہوئی جب سابق چیف جسٹس بندیال کی سربراہی میں بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت سے عمران خان کی گرفتاری کا نوٹس اور انہیں بینچ میں پیش کرنے کی ہدایت کی، پھر ریلیف دے کر انتظامیہ کو مزید پریشان کیا۔
سابق چیف جسٹس پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز میں کرانا چاہتے تھے مگر ایسا نہ کر سکے۔ ان کے پیشرو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کسی معاملے پر حکومت کو مایوس نہ کیا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انتخابی دھاندلی کے الزامات کا نوٹس نہ لیا۔
انہوں نے فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل غیر آئینی ہونے کا فیصلہ معطل کر دیا، پی ٹی آئی انتخابی نشان بلے سے محروم، خواتین رہنما ضمانت حاصل نہ کر سکیں ، جیل ٹرائل میں عمران خان کو تین الزامات میں سزائیں دی گئیں، اس سب کے باوجود 8 فروری کے انتخابی نتائج پی ٹی آئی مخالفین کے لیے حیران کن تھے۔
سابق چیف جسٹس قائز عیسیٰ کو 8 فروری کے بعد تشکیل نظام کا ضامن خیال کیا جاتا ہے، انہوں نے عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت پر اظہار تشویش کرنیوالوں ججوں کا ساتھ نہ دیا۔ وکلاء کی نظر میں جسٹس فائز عیسیٰ کا بڑا احسان سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد کو سپریم کورٹ میں لانے کی حمایت ہے، جسٹس ملک شہزاد نے انتخابی اور 9 مئی مقدمات کی شفاف سماعت یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات کئے جو حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنے۔
بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بھی وہ 9 مئی مقدمات کی چھیڑ چھاڑ میں رکاوٹ بنے رہے، انہیں سپریم کورٹ بھیجنے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججوں کے تبادلے کر دیئے گئے۔گزشتہ سال مارچ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کے خط کے بعد انتظامیہ نے اعلیٰ عدلیہ کو کنٹرول کرنے پر کام شروع کر دیا۔
26 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک ہونے کے بجائے سپریم کورٹ کے جج دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئے، ترمیم سے مستفید ہونیوالوں نے حکومت کو مایوس نہ کیا، انتظامیہ ہائیکورٹس کیساتھ بھی مطمئن ہے، اختلاف کرنیوالوں کی اکثریت سائیڈ لائن کر دی گئی۔
ہائیکورٹس کا چیف جسٹس کی تقرری میں ناپسندیدہ جج نظر انداز کر دیئے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پسندیدہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو بٹھانے کا حکومتی منصوبہ کامیاب رہا۔ 26 ویں ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ پر انتظامیہ کا مکمل غلبہ ہے، اس لئے پی ٹی آئی کے سزا یافتہ رہنمائوں و کارکنوں کو کسی معاملے پر قابل ذکر ریلیف ملنے کا امکان نہیں۔
وکلا ء نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگرقانونی تقاضے پورے کئے بغیر سزائیں دینے کا سلسلہ جاری رہا تو عوام کا عدلیہ پر اعتماد مکمل ختم ہو جائیگاجس کا نقصان نظام عدل کو پہنچے گا، 26 ویں ترمیم کے بعد انتظامیہ کے زیر اثر کام کرنے کے تاثر ختم کرنے کے لیے اعلیٰ عدلیہ کے ججوںکو ہی میکانزم بنانا ہو گا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان سابق چیف جسٹس فوجی عدالتوں عدالتوں میں پی ٹی ا ئی ویں ترمیم ترمیم کے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
چین نے اپنی خلائی سرگرمیوں میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے جمعہ کے روز لیجیان-1 وائی 15 کیریئر راکٹ کے ذریعے 5 مصنوعی سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں بھیج دیے۔
چینی حکام کے مطابق راکٹ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 33 منٹ پر شمال مغربی چین میں واقع ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے لانچ کیا گیا۔
کامیاب پرواز کے بعد راکٹ نے تمام 5 سیٹلائٹس کو ان کے مقررہ مدار میں پہنچا دیا، جس کے ساتھ مشن اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا کہ تمام سیٹلائٹس منصوبہ بندی کے مطابق اپنے مخصوص مدار میں داخل ہو گئے ہیں، جس سے لانچنگ کی کامیابی کی تصدیق ہوگئی۔
یہ مشن چین کے تجارتی خلائی پروگرام کی مسلسل پیش رفت کا مظہر ہے، حالیہ برسوں میں چین نے سیٹلائٹ لانچنگ، خلائی تحقیق اور تجارتی خلائی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ملک اپنے خلائی پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف راکٹ مشنز اور سیٹلائٹ منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے کامیاب مشنز نہ صرف چین کی لانچنگ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے ہیں بلکہ تجارتی خلائی صنعت کی ترقی اور مستقبل کے خلائی منصوبوں کے لیے بھی اہم سنگ میل تصور کیے جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین خلائی مشن سیٹلائٹ مدار