گھریلو ناچاقی پر شوہر نے بیوی کو مردہ قرار دیکر شناختی کارڈ منسوخ کروادیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔04 اگست ۔2025 )لاہور میں گھریلو ناچاقی پر تنسیخ نکاح کا دعوی کرنیوالی خاتون کو شوہر نے مردہ قرار دیکر شناختی کارڈ منسوخ کرادیا، خاتون نے عدالت سے رجوع کیا جس پر پر نادرا نے کارڈ بحال کردیا، عدالت نے کیس نمٹاتے ہوئے شوہر کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی.
(جاری ہے)
لاہور میں شوہر نے گھریلو ناچاقی پر تنسیخ نکاح کا دعوی کیا، جس پر شوہر نے خاتون کو مردہ قرار دیکر شناختی کارڈ منسوخ کروادیا، ایل ڈی اے نے خاتون کی تنخواہیں روک لیں، حبیبہ نامی خاتون نے عدالت سے رجوع کرلیا لاہور ہائیکورٹ میں خاتون کو مردہ قرار دیکر شناختی کارڈ منسوخ کرنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی، ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا لاہور ریجن، ایس ایچ او مریدکے عدالت میں پیش ہوئے.
ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا لاہور ریجن نے عدالت کو بتایا کہ خاتون کا شناختی کارڈ بحال کردیا گیا ہے جس پر عدالت نے درخواست نمٹادیا درخواست گزار خاتون حبیبہ نے عدالت کو بتایا کہ گھریلو ناچاقی پر تنسیخ نکاح کا دعوی کیا، شوہر رانا عباس نے رنجش میں اقدام اٹھایا، میونسپل کمیٹی مریدکے نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا، نادرا نے مردہ قرار دے کر شناختی کارڈ منسوخ کردیا. درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار ایل ڈی اے کی ملازمہ ہے، شناختی کارڈ منسوخ ہونے سے تنخواہیں روک لی گئی ہیں، عدالت منسوخ شناختی کارڈ بحال کرنے کا حکم دے ڈائریکٹر نادرا لاہور ریجن نے عدالت کو بتایا کہ کہ خاتون کا شناختی کارڈ بحال کردیا گیا ہے ایس ایچ او انارکلی کا کہنا تھا کہ خاتون کے شوہر کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا عدالت نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو کارروائی کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹادی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مردہ قرار دیکر شناختی کارڈ منسوخ گھریلو ناچاقی پر کارڈ بحال نے عدالت شوہر نے
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔