لیسکو کی نجکاری کرنے کا عمل باضابطہ طور پر شروع
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
وفاقی حکومت نے لیسکو کی نجکاری کرنے کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا۔ وزارت پاور ڈویژن نے لیسکو سے مالی معاملات سمیت دیگر امور کا ریکارڈ طلب کر لیاہے، پی پی ایم سی کو ریکارڈ پرائیویٹائزیشن کمیشن میں جمع کروانے کا مراسلہ بھجوا دیا گیا۔وزارت پاور ڈویژن نے پی پی ایم سی کو مراسلہ بھجوا کر لیسکو کا فنانشل ریکارڈ طلب کیا ہے،اس کے علاوہ وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے سبسڈی کی مد میں واجب الادا واجبات کا ریکارڈبھی مانگ لیا گیا،جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں ایف بی آر کے ذمہ واجب الادا واجبات کی تفصیلات بھی طلب کر لی گئی ہیں۔لیسکو میں سرکلر ڈیٹ کی بنیاد بننے والے واجب الادا بلز کا ریکارڈ ،تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان مالی معاملات، قرضہ جات کے واجبات ،بینکوں سے قرض اور اراضی کی لیسکو کو منتقلی کے ریکارڈ کی تفصیلات بھی مانگ لی گئی ہیں۔ تیس جون دو ہزار پچیس تک حالیہ مالی آڈٹ رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے، اس حوالے سے مراسلہ بھی جاری کر دیا گیاہے جس میںکہاگیاہے کہ تمام تفصیلات پرائیویٹائزیشن کمیشن کے سپرد کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔