موسی وارننگ سٹسم 7برس صرف کاغزی کام : وزیراعظم برہم : ٹایم لائن میں ایک گھنٹہ اضافہ نہیں ہوگا ‘ نظام مزید فعال بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد +گلگت (خبر نگار خصوصی +نامہ نگار ) وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ کلاؤڈ برسٹ جیسی آفات آئندہ بھی آتی رہیں گی، اس کیلئے ہمیں تیاری کرنی ہے۔ وزیراعظم نے گلگت بلتستان میں بارشوں اور سیلابی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ گلگت میں حالیہ بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے آئے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصانات پر گہرا افسوس ہے۔ وزیراعظم کے مطابق وہ وفاقی ادارے گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور گورنر گلگت بلتستان سے ملاقات میں سیلاب سے نقصانات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق گورنر گلگت بلتستان نے وزیراعظم کو گلگت میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت اور امن وامان کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ ملاقات میں حالیہ بارشوں وسیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے دعا بھی کی گئی۔ وزیراعظم سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان گلبرخان بھی ملے۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں حالیہ بارشوں وسیلابی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے ریسکیو و امدادی کارروائیوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں گلگت بلتستان میں امن و امان کی صورتحال و ترقیاتی کاموں پر پیشرفت پر بھی گفتگو ہوئی۔ قبل ازیں گلگت پہنچنے پر گلگت بلتستان کے گورنر سید مہدی شاہ اور وزیراعلیٰ گلبرخان نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے جرائم کو روکے۔ 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو واپس لے۔ سخت قوانین کو منسوخ کیا جائے اور جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کروایا جائے۔ پاکستان کشمیری بہنوں اور بھائیوں کے حق خودارادیت کے حصول تک ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کرتا ہے یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ اس یوم استحصال پر حکومت پاکستان اور میں اپنے کشمیری بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ پاکستانی عوام کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہم 5 اگست، 2019 سے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں جو کہ نا صرف بین الاقوامی قانون، اصولوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی مکمل خلاف ورزی ہے بلکہ غیر قانونی طور پر بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے آبادیاتی ڈھانچے اور سیاسی منظر نامے کو تبدیل کرنے کی سازش بھی ہے۔ یوم استحصال بھارت کی طرف سے امن اور استحکام کو مسترد کرنے اور بھارتی بربریت کی ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے۔ کشمیری عوام کی حقیقی قیادت کو خاموش کرنے کی کوششیں بھارت کے وسیع تر تسلط پسند اور انتہا پسندانہ ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک اور مسرت عالم بھٹ سمیت کشمیری رہنمائوں اور کارکنوں کی نظربندی ہماری کشمیری بہنوں اور بھائیوں کے عزم کو کبھی بھی کمزور نہیں کرے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا اسرائیلی کارروائیاں پورے خطے میں امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے واقعے پر اپنے مذمتی بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اسرائیلی وزراء کے قابض فوج کے سائے میں آبادکار گروہوں کے ساتھ مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کے حالیہ واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کی حالیہ بے حرمتی نے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے عقیدے کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین اور انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر بھی حملہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کی یہ شرمناک کارروائیاں جان بوجھ کر فلسطین اور پورے خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔ اس سے مشرق وسطیٰ مزید عدم استحکام اور تنازع کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پاکستان ایک بار پھر فوری جنگ بندی، ہر قسم کی جارحیت کے خاتمے اور ایک بااعتماد امن عمل کی بحالی کا مطالبہ کرتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب لے جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈ کا اعلان کر دیا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے گزشتہ روز گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے حالیہ سیلاب سے جاں بحق اور زخمی افراد کے لواحقین میں مالی امدادی چیکس تقسیم کیے۔ ترجمان صوبائی حکومت فیض اللہ فراق کے مطابق، وزیراعظم کو دورے کے دوران گلگت بلتستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ترجمان نے بتایا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے، جب کہ زخمیوں کو فی کس 5 لاکھ روپے کے چیکس فراہم کیے گئے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سوست ڈرائی پورٹ پر تاجروں کے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے مقامی تاجروں کو ہر ممکن سہولت دینے اور سمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ ایمان شاہ نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے اربوں روپے کی لاگت سے نصب ارلی وارننگ سسٹم میں مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے لیے مصداق ملک اور متعلقہ وفاقی سیکرٹری کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا آفات سے نمٹنے کیلئے یہاں ایڈوناس وارننگ سسٹم موجود ہونا چاہئے، 7 برس یہ منصوبہ کاغذوں میں ہے مگر اس پر کام نہیں ہوا، جوٹائم لائن دی ہے اس میں ایک گھنٹے کا بھی اضافہ نہیں ہوگا۔ وزیراعظم نے فوری طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے 4 ارب روپے جاری کرنے اور دیگر نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے لانے کے لیے متعلقہ وفاقی اداروں کو بھی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 100 میگاواٹ کے سولر بجلی منصوبے کو جلد ایکنک سے منظور کرانے کی یقین دہانی کرائی اور گلگت بلتستان میں قائم ہونے والے دانش سکولوں کی سنگ بنیاد کی تقریب میں دوبارہ شرکت کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصانات پر گہرا افسوس ہے۔ یقین دلاتا ہوں جب تک آپ اپنے گھروں میں دوبارہ آباد نہیں ہو جاتے میں یہاں آتا رہوں گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اقدامات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ایک اہم قومی ادارہ قرار دیتے ہوئے اس کے کردار کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں دانش سکول کا جلد قیام عمل میں لایا جائے گا، جبکہ 100 میگا واٹ کا سولر پارک کے منصوبے کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں اور یہ منصوبہ اس سال مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا وزارت ماحولیاتی تبدیلی سیلاب اور دیگر آفات سے متاثرہ علاقوں کیلئے عالمی فنڈز لائے۔ وزارت کے نمائندوں کی کئی کانفرنسز میں شرکت کے باوجود فنڈز نہیں آ رہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ آبادیوں کی بحالی کیلئے اقدامات تیز کرنے، مواصلات، روابط ترجیحی بنیادوں پر بحال اور این ڈی ایم اے کو صوبائی حکومت کی ہر قسم کی معاونت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی آبادیوں کو پانی کی قدرتی گزرگاہوں سے دور آباد کیا جائے اور ہنگامی صورتحال میں فوری ریسکیو و مدد کیلئے جامع نظام تشکیل دیا جائے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان میں حالیہ مون سون و سیلابی صورتحال کے نتیجے میں نقصانات اور امدادی کارروائیوں و بحالی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان حادثات پر مجھ سمیت پوری قوم افسردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی میں حصہ نہ ہونے کے برابر جبکہ اس کے مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان شامل ہے۔ وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت پیش گوئی، امدادی کارروائیوں کیلئے تیاری اور خطرے سے دوچار علاقوں میں کلائیمیٹ ریزیلیئنٹ انفراسٹرکچر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات کیلئے موسم کے اعتبار سے پیشگی آگاہی کا نظام تشکیل دیا جائے۔ مقامی آبادیوں کو پانی کی قدرتی گزرگاہوں سے دور بحال کیا جائے، مستقبل میں ایسی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچنے کیلئے محکمہ موسمیات کے پیشگی اطلاع کے نظام کو مزید فعال اور مربوط بنایا جائے۔ وزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کو مل کر گلگت بلتستان میں آئندہ چند ماہ میں پیشگی اطلاعات و مانیٹرنگ کیلئے سینٹر بنانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورتحال میں فوری ریسکیو و مدد کیلئے ایک جامع نظام تشکیل دیا جائے جبکہ ریسکیو و ریلیف اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کیلئے این ڈی ایم اے صوبائی حکومتوں و اداروں سے تعاون یقینی بنائے۔ انہوں نے حالیہ مون سون سے متاثرہ لوگوں کی بحالی کیلئے اقدامات کو جلد مکمل کرنے اور شاہراہوں و دیگر انفراسٹرکچر کے نقصانات کا سروے کرکے تمام علاقوں کے مواصلاتی روابط کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، وزارت مواصلات، ضلعی انتظامیہ و ریسکیو افسروں و اہلکاروں کی امدادی کارروائیوں اور اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان سمیت ملک کے شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے وسیع مواقع ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان میں 21 جولائی 2025 کو تھک- بابوسر، تھور، کنڈداس اور اشکومن پر کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے شدید بارش ہوئی جس کے نتیجے میں سیاح اور مقامی آبادی کو نقصان پہنچا۔ 600 سے زائد لوگوں کو ریسکیو کیا گیا اور تباہ شدہ شاہراہوں کو روابط کی بحالی کیلئے مرمت کرکے دوبارہ کھولا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ریسکیو آپریشن کیلئے 5 خیمہ بستیاں قائم کی گئیں جبکہ 10 ہیلی کاپٹر اور 2 سی۔ 130 طیاروں کو سیاحوں و دیگر پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کیلئے بروئے کار لایا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس آپریشن میں پاک فوج، این ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ، پولیس، جی بی ڈی ایم اے ، 1122 اور ہیلتھ ورکرز نے حصہ لیا۔ اجلاس کو وزارت مواصلات کی جانب سے بارشوں و سیلاب سے متاثرہ شاہراہوں، پلوں و انفراسٹرکچر کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ وزیرِ اعظم نے متاثرہ انفراسٹرکچر کو کلائیمیٹ ریزیلئینس کو ذہن میں رکھتے ہوئے دوبارہ تعمیر کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے ’’گلوف‘‘ (گلیشئیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ )کے پیشگی اطلاعات کے نظام کی جاری تنصیب پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے این ڈی ایم اے کو وزارت کے ساتھ تعاون سے اس نظام کی آئندہ دو ماہ میں مکمل تنصیب کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم نے نظام کی تنصیب کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرانے اور وزیرِ آبی وسائل کو گلگت بلتستان میں پانی کے بہتر نظام کے حوالے سے مشاورت و منصوبہ بندی مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔ مستقبل میں ایسی قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا، اس میں سرفہرست ایڈوانس وارننگ سسٹم ہے، یہ بڑا متحرک اور فعال نظام ہے جو یہاں موجود ہونا چاہئے۔ سات سال سے یہ پروگرام کاغذوں میں چل رہا ہے، یہاں کے اپنے دورہ سے قبل وفاقی وزراء، سیکرٹریز اور متعلقہ حکام کو یہاں دورے کیلئے بھیجا تھا۔ گذشتہ سات سال میں اس حوالہ سے کوئی خاص کام نہیں ہوا، اب جو وقت مقرر کیا گیا ہے اس میں ایک دن یا ایک گھنٹے کا بھی اضافہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں بھی یہاں قدرتی آفت آئی تھی، اس وقت متاثرین کو 2 لاکھ روپے کے امدادی چیک دیئے گئے تھے، یہ امداد متاثرین کے دکھوں کا مداوا نہیں ہے، اب امدادی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے، جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ، شدید زخمیوں کو5 لاکھ، معمولی زخمیوں کو 2 لاکھ اور گھروں کی تعمیر کیلئے 5 لاکھ روپے فی کس امداد دی جا رہی ہے۔ متاثرین کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر جلد اس کا ازالہ کیا جائے گا۔ امید ہے کہ صوبائی حکومت بھی اس میں اپنا حصہ ڈالے گی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بحالی اور تعمیرنو کیلئے وزارت مواصلات کام کر رہی ہے۔ واپڈا کے منصوبہ پر وزیر پانی معین وٹو تفصیلی جائزہ لے کر جلد بریفنگ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دانش سکول کا جلد سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ گلگت بلتستان کے کم مالی وسائل رکھنے والے طبقات اس سکول سے مستفید ہوں گے، یہ میرٹ پر مبنی نظام ہو گا، دانش سکولوں پر اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں، یہ اخراجات نہیں ہمارے مستقبل کیلئے سرمایہ کاری ہے، یہ نوجوان تعلیم حاصل کرکے قوم کے معمار بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام اور وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ شامل ہیں، اس میں گورنر اور وزیراعلی گلگت بلتستان سے بھی رائے لی جائے گی۔ اس موقع پر تقریب سے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں گورنر گلگت بلتستان، وزیراعلی گلگت بلتستان، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر سمیت اعلی حکام موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف نے امدادی کارروائیوں شہباز شریف نے کہا گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی نے گلگت بلتستان انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت حالیہ بارشوں ڈی ایم اے کے حوالے سے وفاقی وزیر بارشوں اور اقدامات کو لاکھ روپے سے متاثرہ بتایا گیا کی بحالی کی ہدایت دیا جائے کیا جائے اور وزیر ہدایت کی کے مطابق اجلاس کو سیلاب سے تشکیل دی کی جانب کرنے کی پیشگی ا نہیں ہو جائے گا کے ساتھ کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔
جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ
یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔
مزید :