ڈاکٹر عمر عادل ایک سینئر پاکستانی آرتھوپیڈک سرجن، فلم و ٹی وی کے نقاد اور تجزیہ کار ہیں انہوں نے حال ہی میں اداکارہ ریشم سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ آپس کی دشمنی ختم کرنا چاہتے ہیں۔

عمر عادل جو پی ٹی وی کے دور سے ٹیلی ویژن پر نظر آ رہے ہیں اور اپنے بے لاگ تبصروں کے لیے مشہور ہیں۔ وہ سلیبریٹیز، سیاست دانوں، اور معاشرتی روایات کو نشانہ بناتے ہیں جس سے تنازعات جنم لیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے اپنے وی لاگز کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ اس وقت وہ اپنے شو لاؤڈ اسپیکر کی میزبانی کر رہے ہیں، جس میں وہ مختلف مسائل پر آواز اٹھاتے ہیں اور شو بز کی تنازعات پر بات کرتے ہیں۔

انہوں نے حال ہی میں فلم اسٹار ریشم کے بارے میں سخت تبصرے کیے تھے، جس پر ریشم نے احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں ڈاکٹر عمر عدیل کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔

حال ہی میں ڈاکٹر عمر عدیل نے اپنے ایک وی لاگ میں ریشم سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی آپس کی دشمنی ختم کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ ان کے مشترکہ دوستوں اور خیر خواہوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ ٹیلی ویژن پر ایسے تنازعات نہیں ہونے چاہیئں۔

انہوں نے کہا، ریشم آئیے ہم ایک دوسرے کو معاف کریں اور ایک نئی دوستی کا آغاز کریں۔ آئیے ایک نیا آغاز کریں اور ان لوگوں کو جلنے کا موقع دیں جو ہماری مضبوط رشتہ دیکھ کر حسد کرتے ہیں۔ زندگی پہلے ہی بہت مشکل ہے آئیے ان مسائل کو حل کریں، میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عمر عادل نے اینکر غریدہ فاروقی سے غیر مشروط معافی مانگ لی

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میں ریشم کا بہت شکر گزار ہوں۔ ان کے مجھ پر بہت احسانات ہیں، وہ میرے لیے مشکل وقت میں سب سے بڑی اخلاقی حمایت تھیں۔ میں پھر سے ریشم سے درخواست کرتا ہوں کہ ہم ایک نیا آغاز کریں، آئیے وہ بھائی بہن بن جائیں جو ہم کبھی تھے۔ جھگڑے سب میں ہو جاتے ہیں، میں دونوں کے لیے دعا گو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کے دل میں میرے لیے وہی محبت، احترام اور رحم ڈالے جو میرے دل میں ان کے لیے ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران انہوں نے اداکارہ ریشم اور اداکار احمد علی بٹ کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے تھے ان کا کہنا تھا کہ اگر میں خوشبو کی بوتل کھولوں تو ماحول معطر ہو جائے گا، لیکن اگر گٹر کا ڈھکن کھول دیا جائے تو بدبو، تعفن اور گھٹن پھیل جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین سے متعلق غیراخلاقی زبان: ’عمر عادل کو انجام بھگتنا پڑے گا‘

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اُس سے نہ محبت ہے نہ نفرت، کیونکہ یہ احساسات اہم لوگوں کے لیے ہوتے ہیں۔ میں تو اُس کو جانتا بھی نہیں۔ ہاں، مجھے اُس پر ترس آتا ہے کیونکہ وہ اپنی عمر کے اس حصے میں ہے جہاں اُس نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔ چاہنے والے، کیریئر، شہرت، سب کچھ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی عمرعادل متعدد تنازعات کا شکار رہ چکے ہیں۔ گزشتہ برس پنجاب پولیس کی جانب سے گرفتاری کے بعد انہوں نے غریدہ فاروقی سے بھی غیر مشروط معافی مانگی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستانی اداکارہ ریشم عمر عادل عمر عادل معافی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستانی اداکارہ عمر عادل معافی اداکارہ ریشم حال ہی میں ڈاکٹر عمر انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک