59 سالہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی 430 فٹ بلندی سے بنجی جمپنگ، مداح حیران رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
عالمی شہرت یافتہ مسلمان اسکالر اور مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک بار پھر اپنے مداحوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، لیکن اس بار وجہ ان کی کوئی تقریر یا مناظرہ نہیں، بلکہ ان کا ایک دلیرانہ منفرد قدم ہے۔
59 سالہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں 430 فٹ بلند مقام سے بنجی جمپنگ کر کے ایک نیا تجربہ کیا، جس کی ویڈیوز اور تصاویر انہوں نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کیں۔
یہ بھی پڑھیے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی دریائے نیل میں تیراکی، 165 فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگانے کی ویڈیو وائرل
اس حیران کن ایڈونچر کے دوران وہ صرف بنجی جمپنگ تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے کلف جمپنگ اور واٹر سلائیڈنگ جیسے دیگر سنسنی خیز تجربات بھی کیے اور خوب لطف اندوز ہوئے۔
Dr Zakir Naik Bungee Jumping from 430 feet (130 metre or 45 floors) at Turtle Beach Nusa Penida, Bali, Indonesia pic.
— Dr Zakir Naik (@drzakiranaik) August 2, 2025
یاد رہے کہ اس سے قبل ڈاکٹر ذاکر نائیک نے گزشتہ سال یوگنڈا کے دورے میں بھی 165 فٹ کی بلندی سے بنجی جمپنگ کی تھی، جو ان کی ایڈونچر سے محبت اور متحرک طرزِ زندگی کی ایک اور مثال تھی۔
بنجی جمپنگ کیا ہے؟بنجی جمپنگ ایک مشہور ایڈونچر اسپورٹ ہے جس میں کوئی شخص مضبوط اور لچکدار رسی کے ساتھ بندھ کر کسی بلند مقام سے نیچے چھلانگ لگاتا ہے۔ جیسے ہی وہ نیچے جاتا ہے، رسی اس کی رفتار کو روکتی ہے اور اسے دوبارہ اوپر کی طرف اچھالتی ہے، جس سے ایک جھولے جیسا احساس پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر ذاکر نائیک اسٹیج سے کیوں اترے؟ انہوں نے خاموشی توڑ دی
مداحوں کا ردعملسوشل میڈیا پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ عمر صرف ایک عدد ہے، اور ایک اسلامی اسکالر بھی ایک متوازن، سرگرم اور فطری زندگی گزار سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنجی جمپنگ ڈاکٹر ذاکر نائیک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر ذاکر نائیک
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک