59 سالہ ذاکر نائیک کا 430 فٹ بلندی سے بنجی جمپ کا حیرت انگیز مظاہرہ؛ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
انڈٖونیشیا کے شہر بالی کے خوبصورت ترین سیاحتی مقام پر ممتاز اسلامی اسکالر اور تقابل ادیان کے ماہر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے قدرے خطرناک اور حیرت انگیز کرتب کرکے اپنے فالورز کو حیران کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے مشہور سیاحتی جزیرے نوسا پینیڈا کے ساحل ٹرٹل بیچ پر فطری حسن اور مہم جو سرگرمی ایک ساتھ دیکھنے کو ملی۔
یہ مہم جو کوئی اور نہیں بلکہ عالمی شہرت رکھنے والے اسکالر 59 سالہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے مکمل مہارت اور تمام تر حفاظتی اقدامات کے ساتھ پُر اعتماد انداز میں انجام دی۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے جس بلندی سے بنجی جمپ لگانے کا مظاہرہ کیا وہ 430 فٹ اونچی تھی۔ وہ کافی دیر ہوا میں معلق رہے گویا فضاؤں میں تیر رہے ہوں۔ وہ اپنی ویڈیو بھی بناتے رہے۔
https://www.facebook.com/zakirnaik/videos/1772131944184979/?rdid=cx3R3F3kwoRDN3Bn&share_url=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fshare%2Fv%2F16yq3AXVdv%2F
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اس حیرت انگیز عمل کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ بھی کی جہاں ان کی ہمت اور اعتماد کو داد و تحسین ملی۔
یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بنجی جمپنگ کی ہو۔ ایک سال قبل وہ یوگنڈا میں 165 فٹ بلند مقام سے یہ مظاہرہ کر چکے ہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں : ذاکر نائیک کا 165 فٹ بلندی سے ’بنجی جمپ‘ کا حیران کن مظاہرہ
تاہم اس بار تو ذاکر نائیک نے تقریباً تین گنا زیادہ بلندی سے بنجی جمپنگ کی جس کا مطلب ہے انھوں نے اپنے اہداف کا تعین بہت سوچ بچار کے بعد کیا ہے اور وہ اسے مکمل بھی کرتے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر ذاکر نائیک نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔