عمران خان کے بیٹے گرفتار ہوں گے تو لیڈر بنیں گے. رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔06 اگست ۔2025 )وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے پاکستان آکر سیاست کرنا چاہتے ہیں، رہائی کی تحریک کو لیڈ کرنا چاہتے ہیں تو پھر گرفتاری ان کے لئے بڑی ضروری ہے، وہ گرفتار ہوں گے تو لیڈر بنیں گے.
(جاری ہے)
نجی ٹی وی سے گفتگو میںرانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کے بیٹوں کو ویزے دیئے جائیں گے اگر تو وہ والد سے صرف ملاقات کرنے آئیں تو ان کی ملاقات کی بھی کروائی جائے گی اور سیکیورٹی بھی دی جائے گی، بحفاظت جب تک وہ واپس جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں لیکن اگر وہ یہاں آکر سیاست کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے تحریک کو لیڈ کرنا ہے تو پھر انہیں گرفتار کرنا اس بھی لیے ضروری ہے کہ پھر وہ لیڈر بنیں اور عمران خان کی پارٹی کو لیڈ کریں.
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر وہ یہاں آکر پارٹی کو لیڈ کرتے ہیں تو یقینا اس سے پارٹی کو ایک چہرہ ملے گا یہی اعتراض ہم پر اور پیپلز پارٹی پر کیا کرتے تھے کہ وہاں مورروثی سیاست ہو رہی ہے تاہم اس کی اپنی ایک ویلیو ہے جس کی اب ان کو بھی ضرورت بھی پیش آگئی ہے اور اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا. وزیر اعظم کے سیاسی مشیر کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو سیاست کرنی چاہیے، پولیٹیکل پارٹیز اور لیڈر شپ کےساتھ بیٹھنا چاہیے انہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے کہ ہم صرف اسٹیبلیشمنٹ سے ہی بات کریں گے، سیاست دانوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، راستہ جو بھی نکلنا ہے ِادھر سے ہی نکلنا ہے، حالات اور معاملات کو اگر ٹھیک ہونا ہے تو پولیٹیکل پارٹیز اور فورسز نے ہی کرنے ہیں، کوئی اگر یہ کہے کہ باقی سب کو نہیں چھوڑوں گا یا میں ختم کر دوں گا، تو ایسا نہیں ہو سکے گا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ثنا اللہ کو لیڈ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔