بھارت میں انٹرنیٹ پر بڑھتی ہوئی سنسرشپ کے خلاف ایلون مسک کی کمپنی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) نے بھارتی حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ۔
انٹرنیٹ پالیسی کو “غیر آئینی” قرار
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایکس نے مودی حکومت کی انٹرنیٹ پالیسی** کو بھارتی آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔
ایکس کا مؤقف ہے کہ حکومت سوشل میڈیا پر ہزاروں پوسٹس ہٹانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، جن میں زیادہ تر مواد مودی حکومت پر تنقید، سیاسی کارٹونز، اور صحافتی رپورٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ بھارت میں آزادیٔ اظہار کو دبانے کی منظم کوششیں ہو رہی ہیں، اور حکومتی اداروں کو اس مقصد کے لیے غیر معمولی اختیارات دیے جا رہے ہیں۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ستمبر 2023 سے بھارتی حکومت ایک مخصوص ویب سائٹ سہیوگ کے ذریعے ٹیک کمپنیوں کو مواد ہٹانے کی ہدایات دے رہی ہے۔
ایکس نے اس پورٹل کو سنسرشپ کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش؟
آزادیٔ اظہار کے حامی حلقوں نے مودی حکومت کی ان پالیسیوں کو اختلافِ رائے کو دبانے کی حکمت عملی قرار دیا ہے، جو ایک جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔
یہ مقدمہ نہ صرف بھارت میں اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی انٹرنیٹ آزادی کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مودی حکومت

پڑھیں:

ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت

کراچی:

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے۔

جناح اسپتال کراچی میں چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص کیلئےاسکریننگ کا عمل مزید تیز کردیا گیا ہے، زیادہ سے زیادہ اسکریننگ سے ایچ آئی وی پر جلد قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے حکومت سندھ بھرپور کوششیں کر رہی ہے، ہمیں معلوم ہے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، صحت کے شعبے میں حال ہی میں نئی بھرتیاں کی گئی ہیں، مزید بھرتیوں کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں، اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے مزید بھرتیوں سے مدد ملے گی۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اسپتالوں میں میڈیا کی موجودگی کی اجازت نہیں ہوتی، میڈیا سے بات کرنے کے خواہشمند ڈاکٹر اور دیگر افراد اسپتال سے باہر آکر موقف دیں، تمام ڈاکٹرز کو میڈیا سے بات کرنے اور اپنا مؤقف دینے کی اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا اسپتال میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرے، میڈیا کی نشاندہی سے ہی ہمیں مدد ملتی ہے، جناح اسپتال میں ڈاکٹر خالد شیر کو کہہ دیا ہے اب سے وہ میڈیا کو موقف دیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع