ایلون مسک کی کمپنی ایکس نے مودی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
بھارت میں انٹرنیٹ پر بڑھتی ہوئی سنسرشپ کے خلاف ایلون مسک کی کمپنی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) نے بھارتی حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ۔
انٹرنیٹ پالیسی کو “غیر آئینی” قرار
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایکس نے مودی حکومت کی انٹرنیٹ پالیسی** کو بھارتی آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔
ایکس کا مؤقف ہے کہ حکومت سوشل میڈیا پر ہزاروں پوسٹس ہٹانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، جن میں زیادہ تر مواد مودی حکومت پر تنقید، سیاسی کارٹونز، اور صحافتی رپورٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ بھارت میں آزادیٔ اظہار کو دبانے کی منظم کوششیں ہو رہی ہیں، اور حکومتی اداروں کو اس مقصد کے لیے غیر معمولی اختیارات دیے جا رہے ہیں۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ستمبر 2023 سے بھارتی حکومت ایک مخصوص ویب سائٹ سہیوگ کے ذریعے ٹیک کمپنیوں کو مواد ہٹانے کی ہدایات دے رہی ہے۔
ایکس نے اس پورٹل کو سنسرشپ کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش؟
آزادیٔ اظہار کے حامی حلقوں نے مودی حکومت کی ان پالیسیوں کو اختلافِ رائے کو دبانے کی حکمت عملی قرار دیا ہے، جو ایک جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔
یہ مقدمہ نہ صرف بھارت میں اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی انٹرنیٹ آزادی کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مودی حکومت
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔