پاکستان میں زیرکاشت رقبہ 5.28 کروڑ ایکڑ، مویشیوں کی تعداد 25.10 کروڑ ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے ساتویں زراعت شماری کے اعداد وشمار جاری کر دئیے۔ ملک میں زراعت سے وابستہ گھرانوں کی تعداد بڑھ کر ایک کروڑ 17 لاکھ، زیرکاشت رقبہ پانچ کروڑ 28 لاکھ ایکڑ، مویشیوں کی تعداد 25 کروڑ 10 لاکھ تک پہنچ گئی۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے 14 سال بعد ہونے والی ساتویں زراعت شماری 2024 ’ مربوط ڈیجیٹل شمار’ کے نتائج کا باضابطہ اعلان کیا، اس میں زراعت، مویشیوں اور زرعی مشینری کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساتویں زراعت شماری 2024ء کے ذریعے پہلی بار پاکستان میں زرعی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے کے لیے ملک بھر میں مکمل طور پر مربوط ڈیجیٹل طریقہ کار کا کامیابی سے نفاذ کیا گیا۔ اعداد و شمار وفاقی اور صوبائی سطح پر زرعی پالیسیوں کی تشکیل، وسائل کی تقسیم کو بہتر بنانے اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ 14 سال کے وقفے سے ہونے والی ساتویں زراعت شماری کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ زرعی گھرانوں کی تعداد جو 2010ء میں 83 لاکھ تھی، 2024ء میں بڑھ کر ایک کروڑ 17 لاکھ ہو گئی۔ زراعت شماری کے نتائج کے مطابق ملک میں مویشیوں کی تعداد میں 2006ء سے سالانہ 3.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ساتویں زراعت شماری کی تعداد کے نتائج
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔