سوات میں زمرد کی کان میں پھنسے چار مزدوروں کو بحفاظت نکال لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
سوات میں زمرد کی کان میں پھنسے چار مزدوروں کو بحفاظت نکال لیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 7 August, 2025 سب نیوز
سوات: (آئی پی ایس) سوات میں موجود زمرد کی کان میں پھنسنے والے چاروں مزدوروں کو طویل ریسکیو آپریشن کے بعد بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز سوات کے علاقے ملوک آباد میں زمرد کی کان بیٹھنے کے نتیجے میں یہ مزدور اندر پھنس گئے تھے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہیں اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیم نے جائے وقوع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج کی ٹیمیں بھی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، سر توڑ کوششوں کے بعد ملبے میں پھنسے تمام مزدوروں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔
اس موقع پر عوام نے پاک فوج زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند کیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی حکومت کا 24 سرکاری اداروں کی تین مراحل میں نجکاری کا فیصلہ وفاقی حکومت کا 24 سرکاری اداروں کی تین مراحل میں نجکاری کا فیصلہ ٹرمپ کے لگائے گئے نئے ٹیرف سے امریکا کو اربوں ڈالر کی آمدنی، اتنا پیسہ کہاں خرچ ہوگا؟ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا غیرت کے نام پر شادی شدہ لڑکی کا قتل، جرگے کے سربراہ کے تفتیش میں انکشافات بھارتی پرزے روسی جنگی ڈرونز میں استعمال ہونے کا انکشاف روزویلٹ کی نجکاری کے مالیاتی مشیر کے کام چھوڑنے سے قومی خزانے کو 5 کروڑ ڈالر نقصان کا خدشہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: زمرد کی کان مزدوروں کو لیا گیا
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔