ناسا کے معروف خلا باز بُچ وِلمور کے شاندار کیریئر کا اختتام، ریٹائرمنٹ لے لی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
25 سالہ شاندار خدمات انجام دینے والے ناسا کے معروف خلا باز بُچ وِلمور نے خلا میں 9 ماہ گزارنے کے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: خلا میں 9 ماہ تک پھنسے رہنے والے خلابازوں کو کتنا معاوضہ ملے گا؟
وہ خلا میں fellow بی بی سی کے مطابق خلا باز سُنی ولیمز کے ساتھ موجود تھے جب ان کے خلائی جہاز کو تکنیکی مسائل کا سامنا ہوا۔
ناسا نے ایک بیان میں بُچ وِلمور کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں قابل تقلید عزم و حوصلے کی مثال قرار دیا۔
وِلمور ایک اعزاز یافتہ امریکی نیوی کیپٹن بھی ہیں جنہوں نے 4 مختلف خلائی مشنوں میں حصہ لیا اور اپنے کیریئر کے دوران 464 دن خلا میں گزارے۔
وہ 8 روزہ مشن جو 9 ماہ طویل ہوگیا!یہ مشن عالمی توجہ کا مرکز بن گیا تھا جب جون 2024 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے صرف 8 روزہ مشن کی منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن تکنیکی مسائل کی وجہ سے یہ مشن تقریباً 9 ماہ تک طویل ہو گیا۔ دونوں خلا باز مارچ 2025 میں زمین پر واپس آئے۔
ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر کے قائم مقام ڈائریکٹر اسٹیفن کورنر نے کہا کہ ان کا استقامت بھرا ورثہ مستقبل کے خلانوردوں، جانسن کے عملے اور قوم کے لیے نسلوں تک تحریک کا باعث رہے گا۔
62 سالہ بُچ وِلمور کی ریٹائرمنٹ ایک اہم سنگ میل ہے کیونکہ عام طور پر ناسا 26 سے 46 سال کی عمر کے درمیان خلا بازوں کا انتخاب کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: چاند پر انسانی بستی کے لیے بجلی کی فراہمی کا منصوبہ، ناسا نے نیوکلیئر ری ایکٹر پر کام تیز کردیا
وِلمور نے سنہ 2000 میں ناسا میں شمولیت اختیار کی۔ وہ ایک تجربہ کار ٹیسٹ پائلٹ بھی رہے۔ ان کا آخری مشن 2024 میں بوئنگ اسٹار لائنر کی پہلی انسانی پرواز کا حصہ تھا لیکن بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب بڑھتے ہوئے کیپسول میں تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔
انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ڈاکنگ بہت ضروری تھی اور اگر ہم اسٹیشن سے منسلک نہ ہو پاتے تو کیا ہم واپس زمین پر جا سکتے، ہمیں معلوم نہیں تھا۔
زمین پر موجود مشن کنٹرول کی مدد سے وہ کیپسول کے تھرسٹرز کو دوبارہ فعال کرنے میں کامیاب ہوئے اور خلا میں اسٹیشن سے منسلک ہو گئے۔
تاہم خلائی جہاز کو واپسی کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا جس کے بعد دونوں خلا بازوں کو واپس لانے کے لیے متبادل انتظامات کیے گئے۔ مختلف تاخیر کے بعد، بالآخر مارچ 2025 میں اسپیس ایکس کے کیپسول کے ذریعے ان کی واپسی ممکن ہو سکی۔
بُچ ولمور کو کیا چیز خلا میں لے گئی؟ریٹائرمنٹ کے موقع پر بُچ وِلمور نے کہا کہ مجھے ہمیشہ ایک بے پناہ تجسس خلا میں لے گیا لیکن میں زمین کی خوبصورتی اور اہمیت سے کبھی غافل نہیں ہوا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی خلا بازوں کو سائنسی تحقیقی مطالعات میں شامل رکھا جاتا ہے، تاکہ خلا میں رہنے کے جسمانی اور ذہنی اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: خاتون خلا باز کی قیادت میں ناسا کا نیا خلائی مشن روانہ ہونے کو تیار
بُچ اور سنی دونوں کو زمین پر واپسی کے بعد دوبارہ کشش ثقل سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ایک سخت ورزش پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن خلا باز بُچ وِلمور خلا باز بُچ وِلمور ریٹائر خلا باز سُنی ولیمز ناسا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن خلا باز ب چ و لمور خلا باز ب چ و لمور ریٹائر خلا باز س نی ولیمز خلا باز ب چ و لمور خلا میں کے بعد کے لیے
پڑھیں:
ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 23ویں کامن ویلتھ گیمز کا آغاز شاندار اور رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے ہوگیا، جہاں اولمپک چیمپئن ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے نے قومی پرچم کے ساتھ باوقار انداز میں مارچ پاسٹ کیا۔ پاکستان ایونٹ میں 6 مختلف کھیلوں میں حصہ لے گا اور تمغوں کی سب سے زیادہ امید ارشد ندیم سے وابستہ ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 23ویں کامن ویلتھ گیمز کا آغاز جمعرات کو ہائیڈرو ایرینا میں ایک شاندار، رنگا رنگ اور منفرد افتتاحی تقریب سے ہوا، جس نے اسکاٹ لینڈ کی بھرپور ثقافتی روایات کو جدید انداز میں پیش کرتے ہوئے گیمز کی تاریخ کی یادگار افتتاحی تقریبات میں اپنا مقام بنا لیا۔
یہ بھی پڑھیے کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم ایک بار پھر تاریخ دہرانے کے لیے پرعزم
افتتاحی تقریب میں سینکڑوں کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین نے شرکت کی۔ موسیقی، دلکش روشنیوں، جدید بصری اثرات اور فنکارانہ پرفارمنسز نے پورے ایرینا کو جشن کے رنگوں میں رنگ دیا، جبکہ دولتِ مشترکہ کے مختلف رکن ممالک سے آنے والے کھلاڑیوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔
27 رکنی پاکستانی دستہ اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور عالمی ریکارڈ ہولڈر جیولن تھروور ارشد ندیم کی قیادت میں میدان میں داخل ہوا۔ مارچ پاسٹ کے دوران ارشد ندیم نے قومی پرچم تھام رکھا تھا۔ اس بار روایت سے ہٹ کر کھلاڑیوں کی پریڈ انگریزی حروفِ تہجی کے بجائے براعظموں کی بنیاد پر ترتیب دی گئی، جس کے تحت سب سے پہلے افریقی ممالک کے دستے اور اس کے بعد ایشیائی ممالک کے کھلاڑی میدان میں آئے۔
پاکستان کامن ویلتھ گیمز میں 6 مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گا، جن میں ایتھلیٹکس، باکسنگ، جمناسٹکس، جوڈو، لان بولز اور تیراکی شامل ہیں۔
قومی دستے کی سب سے بڑی امید ارشد ندیم ہیں، جنہوں نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی اور عالمی سطح پر نمایاں کامیابیوں کے باعث ایک بار پھر پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے کی توقعات کو مضبوط کر دیا ہے۔
ایک ہفتے سے زائد جاری رہنے والے ان کھیلوں میں دولتِ مشترکہ کے بہترین ایتھلیٹس مختلف مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے، جبکہ پاکستان خصوصاً ایتھلیٹکس اور باکسنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
23ویں کامن ویلتھ گیمز اسکاٹ لینڈ اولمپک چیمپئن ارشد ندیم کھیل گلاسگو