سینٹرل جیل کو شہر سے باہر منتقل کرکے وہاں عدالتیں قائم کی جائیں، ضیاء اعوان ایڈوکیٹ
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
پریس کانفرنس کرتے ہوئے معروف قانون دان نے کہا کہ سٹی کورٹ میں موجود ڈے کیئر کو سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا جائے، ایک پولی کلینک یہاں ہونا چاہیئے، جو معذور افراد ہیں انکے لیے وہیل چیئر ہونی چاہیئے، صوبائی محتسب ہراسمنٹ کے حوالے سے یہاں ایک سیل ہونا چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ضیاء احمد اعوان نے کہا ہے کہ ہماری پٹیشن میں پہلا مطالبہ ہے کہ ایک جوڈیشل کمپلیکس ہونا چاہیئے، سینٹرل جیل کو شہر سے باہر لیکر جائیں اور سینٹرل جیل کی جگہ وہاں عدالتیں بنائی جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سٹی کورٹ سی پی ایل سی پارکنگ میں پریس کامفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ضیاء اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہماری پیٹیشن ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، سندھ ہائیکورٹ کی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ جو سی پی ایل سی پارکنگ ہے انہیں ختم کیا جائے، یہاں ایسی بلڈنگ بنائی جائے گی جہاں دو تہہ خانے ہونگے، 12 فلور ہونگے اس بلڈنگ کے، 125 عدالتیں ہونگی اس میں، سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے چیف جسٹس آف پاکستان کو اس منصوبہ سے آگاہ کیا، اس کے لئے ساڑھے 18 ارب روپے مختص کئے ہیں، تمام ڈسٹرکٹ کے ججز نے اپنی مشکلات سے آگاہ کیا ہے، اس کے لیئے 2 ارب روپے کا مطالبہ کیا جائیگا۔
ضیاء اعوان نے کہا کہ اس سے سٹی کورٹ کے حالات بہتر ہوجائیں گے، تمام عدالتیں ایئر کنڈیشنر ھوجائیں گی، چیف جسٹس صاحب کو ایک خط لکھا ہے، ہم نے خط لکھا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو بلایا جائے، سٹی کورٹ سیکیورٹی کے حوالے سے خطرات سے دوچار ہے، گیٹس پر ایسا سسٹم لایا جائے کہ آنے والے سائلین کے شناختی کارڈ نوٹ کئے جائیں، وکلاء اپنا کارڈ دکھا کر خود بخود اندر آجائیں، ہمارا یہ مقصد ہے، سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں اسکا، ہماری پیٹیشن میں پہلا مطالبہ ہے کہ ایک جوڈیشل کمپلیکس ہونا چاہیئے، سینٹرل جیل کو شہر سے باہر لے کر جائیں اور سینٹرل جیل کی جگہ وہاں عدالتیں بنائی جائیں، یہ عدلیہ اور حکومت کا مشترکہ کام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہونا چاہیئے سینٹرل جیل سٹی کورٹ نے کہا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔